سڈنی کی ادبی تقریب میں طارق محمود مرزا کی کتاب کا اجرا
- بدھ 17 / جولائی / 2019
- 13040
اتوار 14 جولائی کی شام سڈنی کے ایک مقامی ریستوران ’چیمہ دا ڈھابا‘میں ادیب طارق محمود مرزا کی چوتھی کتاب ’دُنیا رنگ رنگیلی‘ کی شاندار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی ۔
تقریب میں سڈنی، وولنگ گانگ اور کینبرا سے تعلق رکھنے والے شاعروں، ادیبوں اور ادب کے شیدائیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی قونصلیٹ جنرل آف پاکستان عبدل ماجد یوسفانی تھے۔ ڈاکٹر رئیسؔ علوی نے تقریب کی صدارت کی جبکہ نظامت کے فرائض ہما مرزا نے انجام دیے۔پروفیسر اخلاقؔ گیلانی،پروفیسر عباس زیدی،ڈاکٹر شبیرؔ حیدر اور کینبرا سے خصوصی طور پر تشریف لانے والے ڈاکٹر محمدعلی نے’دنیا رنگ رنگیلی‘ پر مدلل اورفکر انگیز مضامین پڑھے۔
عارف صادقؔ نے مصنف کی چاروں تصانیف سمیت اب تک کے ادبی سفر پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈاکٹر خرم کیانی نے مصنف کے حالاتِ زندگی پر روشنی ڈالی۔ ایف سی کالج (یونیورسٹی) کے پروفیسر ڈاکٹر علی محمد خان نے حال ہی میں ’دنیا رنگ رنگیلی‘ پر طویل تحقیقی مضمون تحریر کیا ہے۔ ہما مرزا نے اس مضمون سے چیدہ چیدہ حصے پڑھ کر سنائے۔شاعر اور مصور اخترؔ مُغل نے ’دنیا رنگ رنگیلی پر ایک خصوصی نظم سُنا کر محفل میں شعری رنگ بھر دیا۔
ڈاکٹر رضا باقر نے طارق مرزاکی تیسری کتاب’سفرعشق‘ (رودادِ سفرِ حج)پر تحریر کردہ اپنا مضمون پڑھا۔ اس سے پہلے ہما مرزا نے’سفرعشق‘ پر لکھا گیا ڈاکٹر عبدلقدیر خان کاتبصرہ پڑھ کر سُنایا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے لکھا ہے ’ مرزا صاحب نے کتاب کیا لکھی ہے کہ عشقِ الہی اور عشقِ رسولﷺ میں کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ یہ کتاب دلی جذبات،عشقِ رسولﷺ، عشقِ الہی کی نہایت اعلیٰ عکاسی ہے‘۔
رسمی نقاب کشائی کے بعدتقریب کے مہمانِ خصوصی قونصلیٹ جنرل آف پاکستان عبدل ماجد یوسفانی نے اپنی تقریر میں مصنف طارق محمود مرزا کو مبار ک باد دی اور نوجوانوں کو ایسی محفلوں میں شرکت کرنے کی ترغیب دی۔ اس ادبی تقریب میں خصوصی شرکت کرنے والے بلیک ٹاؤن کونسل کے کونسلر منندر سنگھ نے اپنی تقریر میں طارق مرزا کو مبار ک باد دی اور بلیک ٹاؤن کونسل کی طرف سے ادبی تقریبات کے لیے دستِ تعاون دراز کیا۔
صاحبِ کتاب طارق محمود مرزا نے اپنی تقریر میں معاون تنظیموں ، اِدارہ ہم وطن اوراُردو انٹرنیشنل سمیت مقررین،حاضرین، میڈیا اور احباب کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے اپنی کتاب کے چند پیرا گراف پڑھ کر سنائے جنہیں حاضرین نے بہت پسند کیا۔ڈاکٹر رئیس علوی نے اپنی صدارتی تقریر میں مصنف طارق مرز اکی شخصیت اور ان کی ادبی کاوشوں کو انتہائی شاندار الفاظ میں سراہا۔انہوں نے کہا یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ’ہمارے شہر میں طارق مرزا جیسی شخصیت موجود ہے‘
تقریب کے آخر میں حاضرین کی ضیافت کا اہتمام تھا۔ یوں مدتوں یاد رہنے والی انتہائی یاد گار ادبی تقریب اختتام کو پہنچی۔