جرمنی سے پاکستانیوں کی ملک بدری
- تحریر منور علی شاہد
- بدھ 17 / جولائی / 2019
- 10350
یورپ پہنچنے کے بعد ہر پناہ گزین جرمنی کا رخ کرتا ہے اور جائز و ناجائز ہر طریقہ سے جرمنی میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حوالے سے اس کے ذہن میں دوستوں،عزیزوں کی طرف سے پرتعیش زندگی کے سہانے خواب سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔
انہی خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی خاطر وہ ہر قسم کے مصائب جھیلتا ہے اور بسااوقات بدقسمتی سے اپنی قیمتی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔آج کا جرمنی اب وہ جرمنی نہیں ہے جیسا کہ دس،پندرہ سال پہلے ہوتا تھا۔آج کا جرمنی ایک نئے دور سے گزر رہا ہے یہاں کی فلاحی ریاست اور جمہوریت کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جن سے سیاسی جماعتیں، ملکی ادارے نمٹنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی یہ اولین کوشش ہے کہ جرمنی کا وہ تشخص بالکل مجروح نہ ہونے پائے جوجرمنی کی شناخت اور پہچان ہے۔ انسانی مساوات، عدل، سیاسی و مذہبی رواداری، تحفظ ایسے سنہری اصولوں کی پاسداری ہر صورت ملحوظ خاطر رکھی جائے۔
جرمنی کی ریاست اپنے قوانین اور تاریخ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ چیلینجوں سے نمٹنے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے لیکن ان تمام تر کوششوں جرمنی کے جمہوری اور فلاحی سسٹم میں دڑاریں پڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ خصوصاً2017کے انتخابات کے بعد نہ صرف وفاقی سطح بلکہ جرمنی کی ریاستوں کے اندر اس طرح کی سیاسی تبدیلیاں دیکھنی میں آئی ہیں جن کا ایک دہائی قبل تصور بھی نہ تھا۔انہی تبدیلیوں میں مہاجرین کے ساتھ معاملات سر فہرست ہیں۔2015میں حکومت کی طرف سے آنکھیں بند کرکے جس طرح مہاجرین کو جرمنی بھر میں ویلکم کہا گیا تھا، ٹھیک تین سال بعد ہی وہی مہاجرین اب مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ کچھ ممالک کے مہاجرین کو خصوصی مہاجر کادرجہ دیتے ہوئے خصوصی سہولیات بہم پہنچائی گئیں اور کچھ ممالک کے مہاجرین نئی حکومتی سخت پالیسوں کی زد میں آگئے۔
اس وقت ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین کے کیس عدالتوں میں موجود ہیں یا جن کو انتظامی عدالتیں مسترد کر چکی ہیں۔ ان سبھی کو ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ تمام درخواستیں مسترد ہوجانے کے بعد وہ کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ جرمنی کے ادارہ بی اے ایم ایف کے مطابق سال رواں میں جرمنی کی انتظامی عدالتوں میں پناہ کی مسترد درخواستوں کی اپیلوں کی تعداد پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اب تک کس قدر درخواستیں عدالتوں سے مسترد ہو رہی ہیں۔ جرمنی کے میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق سال رواں کی پہلی ششماہی میں تین لاکھ بیس ہزار درخواستیں مسترد ہوئی تھیں۔ ان کی طرف سے اپیلیں کی گئیں ہیں۔ زبان اور مالی مسائل کی وجہ سے تارکین وطن اپیلوں کے دیگر ذرائع سے ناواقف ہوتے ہیں۔ یا ان تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ حالانکہ اگر وہ انسانی حقوق کے اداروں سے بھی رابطہ کریں تو وہاں سے بھی ان کو مختلف طرح کی مدد اور راہنمائی مل سکتی ہے۔ اسی طرح یورپ کی انسانی حقوق کی عدالتیں بھی موجود ہیں جہاں اپیل کی جا سکتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ممبر اور مقامی نیٹ ورک میں شامل ہونے کی وجہ سے مجھے علم ہے کہ 2015۔16میں مختلف علاقوں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر میں مہاجرین کی مدد و راہنمائی کے لئے باقاعدہ ہنرمند کارکن رکھے گئے تھے، جو گروپس میں اور انفرادی طور پر ان کی راہنمائی کرتے تھے۔ ان دفاتر سے بھی رابطہ کرکے مدد و راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ وکلاء بھی اب نہ صرف تھکے تھکے لگتے ہیں بلکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں وہ بھی ایک حد سے آگے جانے کو تیار نہیں۔ اور نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ بغیر کام کے وکلاء کی فیس دینا بھی ایک مسئلہ ہوتا ہے، اس حوالے سے بھی اگر انسانی حقوق کے اداروں سے رابطہ کیا جائے تو کچھ نہ کچھ مدد مل سکتی ہے۔
آج کل ملک بدری تیزی سے ہو رہی ہے، گزشتہ ایک ماہ میں دو بار پاکستانیوں کو جرمنی بدر کیا چا چکا ہے۔ یاد رہے کہ ملک بدری اس وقت ہوتی ہے جب درخواست دہندہ اپنے آبائی ملک کے بارے میں غلط بیانی کرتا ہے یا نامکمل معلومات ادارے کو دیتا ہے یا ادارہ یہ یقین کر لے کہ اس کی درخواست معاشی فائدے کے لئے تھی یا پھر یہ کہ اس سے ریاست کو سیکورٹی خدشات لاحق ہیں۔اس کے علاوہ ملک بدری اس وقت بھی عمل میں لائی جاتی ہے جب متعلقہ حکام کویہ یقین ہوجاتا ہے کہ اس نے جرمنی آنے سے پہلے کسی دوسرے یورپی ملک میں بھی پناہ کی درخواست جمع کرائی تھی۔ ان حالات میں درخواست مسترد ہونے کے ساتھ ہی ملک بدری کا نوٹس بھی دے دیاجاتا ہے۔ درخواست گزار کو تیس دن میں ملک چھوڑنے کا کہا جاتا ہے اور ساتھ ہی دو ہفتوں میں اپیل کرنے کا حق بھی دیا جاتا ہے۔
اگر تارک وطن کے کیس کی نوعیت عام نہ ہو تو پھر صرف ایک ہفتہ کے اندر اپیل کرنے کا قلیل وقت دیا جاتا ہے۔ انتظامی عدالتوں میں اپیل کی کارروائی بہت اہم ہوتی ہے۔ جرمنی میں رہنے یا نہ رہنے کا دارومدار اسی عدالت کے فیصلے پر ہوتا ہے۔ اپیل ہوجانے کے بعد عدالت سب سے پہلے BAMFکے فیصلے کو دیکھتی ہے اور پھر اپیل کرنے والے کو مزید سنتی ہے اور عدالت بلاتی ہے۔ آج کل اس طریقہ پر زیادہ وقت صرف ہو رہا ہے جو لوگوں کے لئے ذہنی پریشانی اور دباؤ کا سبب بھی بن رہا ہے۔ عدالت دوبارہ سماعت کے بعد اگر درخواست دہندہ کے حق میں فیصلہ دے تو پھرBAMFکو اس کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔لیکن عدالت بھی درخواست مسترد کردے تو پھرپناہ گزین کو جرمنی چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایک اور علیٰ عدالت اور وفاقی عدالت کے پاس اپیل کرنے کے مواقع بھی موجود ہوتے ہیں لیکن اس حد تک بہت کم لوگ جاتے ہیں۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا اپنے ملک میں واپس جانے اور رہنے سے جان کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اوراس کے ساتھ مکمل انصاف نہیں ہوا تو پھر اس کو وفاقی عدالت کے فیصلے کے بعد یورپین انسانی حقوق کی عدالت میں جانے کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔
ہر جگہ سے درخواستیں مسترد ہوجانے کے بعد صرف ملک بدری ہی باقی رہ جاتی ہے۔ گزشتہ دور کی مسلم لیگ ن کی حکومت کے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی جرمنی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کرچکے ہیں جس پر اب عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔ ملک بدری اسی معاہدے کا حصہ ہے۔ جب پناہ گزین خود ملک نہ چھوڑے تو پھر جبری ملک بدری ہوتی ہے لیکن اگر کسی مجبوری یا خاص وجہ کی بنا پر ملک بدری ممکن نہ ہو تو پھر ڈلڈنگ یعنیtolerated permit to stay دے دیا جاتاہے جس کا مطلب عبوری طور پر قیام کرنا ہوتا ہے۔ یہ ڈلڈنگ ملک بدری کی لٹکتی تلوار ہے اور اس دوران اگر وہ مزید اپنے بارے میں فوری فیصلے کرلے مثلاً عدالت کو مزید کچھ نیا بتائے جو کیس میں اس کے لئے مددگار ثابت ہو، ورنہ پھر وہ کسی دوسرے یورپی ملک چلا جائے تو بھی اس کو یورپ میں رہنے کا کچھ مواقع مزید مل سکتے ہیں۔
جرمنی میں آنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ آپ کو یہاں پہنچنے کے بعد ترجیحی بنیادوں پر زبان سیکھنی ہوگی، کیمپوں میں مہیا کی گئی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زبان سیکھنے میں دلچسپی دکھانی اور لینی ہوگی بصورت دیگرمسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔کیس کے مکمل فیصلہ ہونے تک آپ جرمن زبان پر جتنا زیادہ عبور حاصل کریں گے اتنا ہی آپ کو اس کا فائدہ ہوسکتاہے۔ باعزت طریقے سے جرمنی و یورپ میں رہنے کے لئے بلیو کارڈ کی سہولت سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔