مریم نواز کا مفاہمت سے انکار، جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
- جمعرات 18 / جولائی / 2019
- 6310
سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے اُن کے پاس کسی کے جوتے صاف کرنے سمیت کئی آسان راستے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گی۔
مریم نواز نے وائس آف امریکہ کو دیے جانے والے خصوصی انٹرویو میں اپنی سیاسی جدوجہد، مستقبل کی حکمت عملی اور غیر سیاسی قوتوں کے کردار سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ اپنے والد کے لیے تو لڑوں گی مگر میں ہر پاکستانی کی جنگ لڑ رہی ہوں اور یہ لڑائی قانون کی بالادستی، ووٹ کو عزت دلوانے اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف بھی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ "اگر میری ذاتی خواہشات ہوتیں تو میں جدوجہد کا راستہ اختیار نہ کرتی، آسان راستہ مجھے بھی آتا ہے۔ اس میں آپ کو بس ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں، اس میں آپ کو جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں"۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا مقصد اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی، اور جمہوری اقدار کو مستحکم کرنا ہے۔ آئین میں ہر ادارے کا کردار واضح ہے اور صرف عوام اور ان کے نمائندوں کی رائے مقدم ہے۔ اگر اس توازن کو زبردستی دبانے کی کوشش کی جائے گی تو صرف عدم توازن نہیں ہوگا بلکہ تباہی آئے گی۔
ان کا کہنا تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گزشتہ 70 برسوں سے جمہوریت کبھی بالواسطہ اور کبھی بلاواسطہ طور پر منقطع ہوتی رہی ہے اور جمہوری روایات کو ملک میں کبھی پنپنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے سیاسی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جہاں سیاسی عدم استحکام رہا اس ملک نے کبھی ترقی نہیں کی۔ ایک سوال پر مریم نواز نے کہا کہ وہ 2019 میں آمریت نہیں دیکھ رہیں لیکن عمران خان اقتدار کے لیے تمام جمہوری اقدار کو روندنے کے لئے تیار ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر ایک منتخب وزیراعظم یہ کہتا ہے کہ مجھے لوگوں نے ووٹ دیا اور حکومت چلانا میرا کام ہے تو اسے آئین و قانون پر چلنے کی سزا نہیں دینی چاہیے۔ اب تو جج خود کہہ رہا ہے کہ میاں صاحب پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے جب یہ کہہ دیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کے لیے ان پر دباؤ ہے اور وہ جج آج انصاف کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ احتساب کا پورا فساد بنا کر جو وزرائے اعظم کے ساتھ کیا جاتا ہے، یہ صرف نواز شریف کے ساتھ نہیں ہوا، بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو بھی اس کی زد میں آئے۔ ان کی جنگ صرف نواز شریف تک محدود نہیں ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) مردوں کی جماعت رہی ہے اور ایک خاتون کا لیڈر کے طور پر سامنے آنا آسان نہیں تھا۔
(وائس آف امریکہ)