کلبھوشن کیس: پاکستانی ایڈہاک جج کا اختلافی نوٹ

  • جمعرات 18 / جولائی / 2019
  • 4910

عالمی عدالت انصاف  میں پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی نے کلبھوشن یادیو کیس کے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان نے ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی نہیں کی۔  جبکہ بھارت اس کی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی۔

عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث بھارتی نیوی کے حاجر سروس افسر کی رہائی اور اسے بھارت کے حوالے کرنے کی نئی دہلی کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اس فیصلے کی سماعت کرنے والے ججز پینل میں پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت کو بھارت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دینی چاہیے۔ کیونکہ بھارت نے اس طریقہ کار میں حقوق کے استعمال کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

تصدق حسین جیلانی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008 میں ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہ دینے کا قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر ویانا کنوینشن کا اطلاق ہوتا بھی ہے تب بھی پاکستان نے اس کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پہلے ہی کلبھوشن یادیو کی فوجی عدالت سے سزا پر نظر ثانی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری طریقہ کار اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ 'دہشت گردی ایک منظم ہتھیار بن چکی ہے، تاہم اقوام عالم اس سے اپنی مدد آپ کے تحت نبرد آزما ہوں گے۔ ایسے خطرات قونصلر تعلقات سے متعلق ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 36 کی درخواست کے دائرہ کار پر نافذ مخصوص پابندیوں کا قانونی جواز پیدا کرسکتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت اوینا اور لا گرینڈ قانون پر انحصار کرتی ہے اور یہ کیس اس قانون سے بہت مختلف ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ جن مختلف عوامل کی مخالفت کا عدالت کو سامنا ہے ان میں سب سے اہم ایک شخص کی دوسرے ملک کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری، قید، ٹرائل اور سزا کے انفرادی طور پر خصوصی حالات ہیں۔

ان کا اپنے اختلافی نوٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’ یہ کنوینشن ریاستوں کے درمیان دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی راہ فراہم کرتا ہے۔ تاہم بمشکل ہی کوئی ایسی صورت ہوسکتی ہے جس کے تحت ویانا کنوینشن کا مسودہ تیار کرنے والوں نے ان حقوق میں جاسوسوں یا پھر ایسے افراد، جنہیں ایک ملک (بھارت) سے دوسرے ملک (پاکستان) کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے ارادے کے طور پر بھیجا گیا ہو، کو اس میں شامل کرنے کے بارے میں سوچا ہو‘۔