چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کیلئے کوششیں

  • جمعرات 18 / جولائی / 2019
  • 4990

حکمران جماعت نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کو واپس کروانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

روزنامہ ڈان کہ رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں قائدِ ایوان سینیٹر شبلی فراز نے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے لیے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ محمد ظفرالحق اور پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما سینیٹ شیری رحمٰن کے ساتھ ملاقات کہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا ہوگا۔ ان کا  یہ بھی کہنا تھا کہ اس اقدام کے جواب میں پیش کی گئی تحریک کا نتیجہ ڈپٹی اسپیکر سلیم مانڈوی والا کے عہدے سے ہٹنے کی صورت میں نکلے گا۔

سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ملک کی پارلیمانی تاریخ میں کبھی بھی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایوانِ بالا کا وقار، تاریخ اور روایت محفوظ رہنی چاہیے۔

اس دوران چئیر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف راجہ ظفرالحق سے ملاقات کی جس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے مشترکہ طور پر نامزد کردہ امیدوار میر حاصل بزنجو بھی موجود تھے۔ اس بارے میں جب راجہ طفرالحق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی عموماً ان سے ملاقات کے لیے آتے ہیں اور یہ معمول کے مطابق ہونے والی ایک ملاقات تھی۔

بعدازاں صحافیوں کے ساتھ تفصیلی گفتگو میں صادق سنجرانی نے کہا کہ سینیٹ کا اجلاس اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے بلایا جائے گا۔ سینیٹر شبلی فراز نے رابطہ کرنے پر اخبار کو سینیٹ میں اپوزیشن کے کلیدی رہنماؤں سے ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ اگر بات نہ بنی تو تحریک انصاف تحریک عدم اعتماد کے سدِ باب کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والےمتعدد سینیٹرز تحریک عدم اعتماد سے ناخوش ہیں جس کا نتیجہ خفیہ رائے شماری میں سامنے آجائے گا۔

دوسری جانب پی پی پی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے پارٹی سینیٹرز پر مشتمل اجلاس کی سربراہی کی جس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد منظور کروانے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس 66 اراکین ہیں اور وہ سب اس کے حق میں ووٹ دیں گے اور جو اراکین ملک سے باہر موجود ہیں وہ جمعرات تک واپس آجائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے اراکین توڑ لیں گے تو وہ غلطی پر ہیں۔