عالمی عدالت کا فیصلہ: کلبھوشن یادیو پاکستان کی حراست میں ہی رہے گا

  • جمعرات 18 / جولائی / 2019
  • 4960

عالمی عدالت انصاف  نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو رہا کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔ تاہم پاکستان نے کہا کہ وہ بھارت کو کلبھوشن تک قونسلر رہائی فراہم کرے۔

کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبد القوی احمد یوسف نے سنایا۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دی گئی سزائے موت کا منسوخ کرنے اور اسے رہا کرنے کی بھارتی استدعا مسترد کردی۔ عدالت نے حسین مبارک پٹیل کے نام سے کلبھوشن کے دوسرے پاسپورٹ کو بھی اصلی قرار دیا۔ جج عبدالقوی احمد یوسف کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے۔

بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن تک قونصلر رسائی مانگی تھی جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ کیس میں ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہیں دی جاسکتی۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ویانا کنونشن، جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا۔ جبکہ پاکستان نے کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا۔ لہٰذا پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے تاہم وہ پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔ عالمی عدالت نے یہ بھی تسلیم کی اہے کہ اس معاملہ میں پاکستان کو سماعت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس بارے مین بھارتی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔

البتہ عالمی عدالت نے پاکستان سے کلبھوشن کی سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کیس میں پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق حسین جیلانی نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوسوں پر نہیں ہوتا، لہٰذا بھارت کی قونصلر رسائی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی جانی چاہیے۔

اٹارنی جنرل انور منصور کی قیادت میں پاکستانی ٹیم فیصلہ سننے نیدر لینڈ کے شہر دی ہیگ میں موجود تھے۔ ڈائریکٹر جنرل  ساؤتھ ایشیئن ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن (سارک) اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی پاکستانی وفد کے ساتھ موجود تھے۔

بھارت نے کلبھوشن یادو کی بریت کیلئے عالمی عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ تاہم کیس کی سماعت کے دوران بھارتی وکیل اس سوال کاجواب دینے میں ناکام رہے کہ کلبھوشن کے پاس 2 پاسپورٹ کیوں اور کیسے تھے۔ قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آنے کا قوی امکان ہے جبکہ عدالت بھارت کو زیادہ سے زیادہ کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا فیصلہ سنا سکتی ہے۔

عالمی عدالت کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق فیصلے بعد کے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نے کہا کہ ’عالمی عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کلبوشن یادیو پاکستان کی حراست میں رہےگا‘۔  انہوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان کی واضح برتری ہے‘۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔