کرپشن کیا ہے ۔ (3)
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعرات 18 / جولائی / 2019
- 7360
تو پچھلے مضمون میں بصد عجز و نیاز میں عرض کر رہا تھا کہ ہم میں سے بیشتر لوگ خُدا کی آواز پر کان نہیں دھرتے اور خُدا کے دیے مال میں سے خُدا کا حصہ اور حق ادا نہیں کرتے ۔ خُدا کا حصہ کس کس کو ادا کرنا ہوتا ہے ؟
ملک کے سربراہ سے لے کر افواج کے سپہ سالاروں تک ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے لے کر تاجروں اور سرمایہ داروں تک ، میر مُلا سے لے کے شیخ الاسلام تک ، اور تاجر ، افسر ، پولیس اہلکار ، اداکار ، فن کار سے لے کر میڈیا کے لفافوں تک ، سب پر اپنی جیب اور مُٹھی ڈھیلی کرنی فرض ہے ۔یہ حصہ کس کو ادا کرنا ہوتا ہے ؟ حکومتِ وقت کے قائم کردہ بیت المال کو ۔ مگر کس لیے؟ معاشرے کی فلاح کے لیے ۔ اور معاشرے کے وہ صاحبانِ اختیار و اقتدار جو معاشرے کی فلاح میں شریک نہیں ہوتے ، اُن کو معاشرے کا جزو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ اپنے مشکوک طریقِ کار کی بنا ہر وہ طفیلی جرثومے ہیں، غیرملکی گھس پیٹھیے ہیں یا دشمن کے سفیر ہیں ۔
چنانچہ خُدا کا قانون یہ کہتا ہے کہ سب دوطرفہ ادائیگیاں لکھ لی جائیں کہ کسی نے کیا دیا اور لینے والے نے کیا لیا تاکہ کسی بھول چُوک یا غلطی کا اندیشہ نہ رہے اور نہ کسی حق دار کا حق غصب کرنے کا گمان یا امکان پیدا ہو ۔ خُدا نے قلم اسی لیے اُتارا کہ ہر مالی ادائیگی اُسی طرح لکھی جائے جس طرح دوسرے اعمال لکھے جاتے ہیں ۔ اور قرآن میں سورہ ء القلم نازل کی گئی ، قلم اور قلم سے لکھی جانے والی تحریر کی قسم کھائی گئی کہ :
ن والقلم وما یسطرون
یہاں ن کو کئی مفاہیم میں بیان کیا جا سکتا ہےلیکن ازراہِ احتیاط یہی کافی ہے کہ آسمان نے قلم اور تحریر کی قسم کھائی ہے ، کیونکہ یہ دونوں عوامل خُدا کے نظامِ تخلیق و تنظیم میں اساسی حیثیت کے حامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے ادارہ ء رسالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی کتابت کے لیے دس کاتب مقرر فرمائے تھے جو جبریل علیہ السلام کے لائے ہوئے وحی کے فرامین کو حیطہ ء تحریر میں لایا کرتے تھے ۔ تحریر کا تقدیر سے رشتہ اس قدر گہرا اور مضبوط ہے کہ اقبال نے سُخن کے پیرائے میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ فرماتے ہیں :
لوح بھی تو ، قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
یعنی معاملات کو ضابطہ ء تحریر میں لانا اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا استعارہ ہے ۔ اعمال کی تحریری دستاویز تیار کرنے کی اہمیت اس مظہر سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ہر فرد کو خواہ مرد ہو ، عورت ہو یا مخنث ، اُس کے اعمال کی کتابت کے لیے کراماً کاتبین مہیا کیے گئے ہیں جو اس کا ہر عمل ، ہر خیال ، ہر احساس اور ہر نیت کو لکھتے اور اعمال نامہ مرتب کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن پاکستان میں حکمرانوں نے کھلے بازار میں رقومات کی منتقلی کو قرآنِ کریم کے واضح حکم کے باوجود تحریری نظام کا پابند نہیں بنایا حالانکہ سورہ ء بقر کی متعدد آیات میں حکم جاری کیا گیا ہے کہ قرض کی دستاویز تیار کرو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ :
" اور جب خرید و فروخت کرو تو بھی شہادت موجود ہونی چاہیے اور کاتبِ دستاویز اور گواہ کسی کا نقصان نہ کریں اور اگر ایسا کریں تو یہ گناہ کی بات ہے ، اور خُدا سے ڈرو اور دیکھو کہ وہ تم کو سکھاتا ہے اور خُدا ہر چہز پر قادر ہے ۔" البقر ۔ ۲۸۲
تو کیا ہم نے خُدا سے دستاویز سازی سیکھ کر رائج کر لی ؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ ہم اپنے معاشرے میں اربوں روپے کے مال کی خرید و فروخت کرتے ہیں مگر اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے کے مطابق لین دین اور خرید و فروخت کرتے ہیں مگر دستاویزی ثبوت رقم نہیں کرتے جس کا مطلب ہے کہ لین دین کے ثبوت مٹا دیتے ہیں تاکہ اُس میں سے خدا کا وہ حصہ جو فلاحِ عامہ کے لیے ادا کرنا لازمی ہے شیرِ مادر سمجھ کر ہضم کر جائیں ۔
میں جس ملک میں رہتا ہوں وہاں ہر شے کی خریداری پر خواہ وہ اشیائے خوردنی ہوں ، اشیائے استعال ہوں یا سٹیشنری ہو ، کتابیں ہوں ، ٹرین ، بس ، کشتی یا فضائی سفر کا ٹکٹ ہو ، حکومت کا ٹیکس رسید میں باقاعدہ الگ سے درج ہوتا ہے ۔ یہ ایک عیسائی معاشرہ ہے لیکن ایک مسلمان معاشرے میں یہ نہیں کیا جاتا ۔ آخر کیوں ؟ کیا اس طرح تاجر اور دکاندار خُدا اور اُس کے بندوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں ؟ آخر وہ قرآن کے واضح احکامات کی اطاعت میں مالی معاملات او ر خرید و فروخت کا دستاویزی نظام کیوں قبول نہیں کرتے ۔
کیا وہ دست بدست سودے کی اجازت کو کوئی غلط مفہوم پہنا کر قرآن کی تحریف کے مرتکب تو نہیں ہوتے ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے ، دست بدست سودے کے ضمن میں البتہ چھوٹ دی گئی ہے اور قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے :
" اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو ، تو اگر دستاویز نہ بھی لکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں " ۔ البقر ۲۸۲
لیکن یہ کچھ اس طرح کی صورت ہے کہ آپ نے پڑوسی سے چینی کا ایک کپ یا آٹے کا ایک کلو ادھار لیا اور اگلے روز واپس کر دیا جب کہ مارکیٹ کے لین دین اور خرید و فروخت کے ضمن میں ایسی کوئی چھوٹ نہیں دی گئی مگر چالاک لوگوں نے اس گنجائش کی آڑ میں پورے معاشی نظام پر ہی کالک مل دی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ملک کی معیشت کالے دھن اور ناجائز لین دین کی معیشت بن کر رہ گئی ہ۔ے اور چونکہ یہ نظام پچھلی کئی دہائیوں سے چل رہا ہے ، اس لیے وہ بازارِ تجارت کا روز مرہ بن کر رہ گیا ہے ۔
یہ غیر دستاویزی معیشت کے کالے دھن کا وہ نشہ ہے جو ملک کے کاروباری طبقے کو لگا ہوا ہے ، جس میں چھوٹے دکاندار ، خوانچہ فروش ، ریڑھی والے اور چھابڑی والے بلاوجہ وہ گھن بن گئے ہیں جو گیہوں کے ساتھ پس جاتا ہے ۔ اور اب اس غیر تحریری نظام کو چھوڑنے کی بات پر یہ پورا نظام متزلزل ہو جاتا ہے اور گلی گلی ماتم اور آہ و بکا شروع ہو جاتی ہے۔ ( جاری ہے )