مقامی حکومت اور ترجیحات کا مسئلہ

18 ویں ترمیم کے بعد یہ سیاسی منطق دی گئی تھی کہ اب حکمرانی کے بحران کے حل میں وفاقی حکومتوں کے مقابلے میں صوبائی حکومتوں کا اہم کردار ہوگا۔مقامی ترقی کی کنجی صوبائی حکومتوں کو دی گئی تھی کہ وہ 1973کے دستور کی 140 اے کے تحت صوبائی سطح پر سیاسی، انتظامی اورمالی اختیارات کو صوبوں سے ضلعی، تحصیل او ریونین کونسل کی سطح پر منتقل کریں۔

ماضی میں یہ دلیل دی جاتی تھی کہ وفاق صوبائی خود مختاری کے خلاف تھا اور صوبوں کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں تھا جو صوبائی ترقی کے عمل میں رکاوٹ سمجھا جاتاتھا۔ لیکن 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد اب صوبائی ترقی کا بڑا انحصار صوبائی حکومتوں پر ہی بنتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے وفاق نے تو صوبوں کو اختیارات دے دیے مگر صوبے مقامی نظام کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔

پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام کبھی بھی سیاسی او رجمہوری حکومتوں کی ترجیحات کا حصہ نہیں رہا۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جب بھی جمہوری حکومتیں آئیں تو سب سے بڑا استحصال مقامی نظام حکومت کو ہوا۔کیونکہ ان جمہوری ادوار میں سیاسی او رجمہوری حکومتوں نے اول تو مقامی نظام کے انتخابات کروانے سے گریز کیا، دوئم اگر نظام تشکیل دیا گیا تو اسے سیاسی، جمہوری، انتظامی او رمالی طو رپر کمزور رکھا گیا، سوئم اگر باامر مجبوری مقامی انتخابات کا راستہ اختیار کیا گیا تو اس میں تاخیری حربو ں سمیت عوا م کے منتخب نمائندوں کے مقابلے میں نظام کو کمزور رکھ کر عملا بیوروکریسی کو زیادہ بااختیار بنایا گیا، جو جمہوری نظام کی نفی تھی۔

مقامی حکومتوں کے نظام کا سیاسی المیہ یہ رہا ہے یہ نظام کبھی بھی ایک بڑے سیاسی او رجمہوری بیانیہ کی سیاست کا حصہ نہیں بن سکا۔ سیاست سے جڑے لوگ ہی نہیں بلکہ اہل دانش کی سطح پر بھی موجود پڑھے لکھے افراد یا رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں کی بحث کا موضوع مقامی نظام کی مضبوطی نہیں رہا۔یہ طبقہ جمہوریت کی تو بات  کرتا ہے مگر  صوبوں میں مقامی نظام نہ ہو یا کمزور ہو تو اسے وہ سیاست، جمہوریت اور موثر و شفاف حکمرانی کے نظام کے ساتھ جوڑنے سے قاصر ہیں۔اس لیے اگرملک میں مقامی نظام کام نہ کررہا ہو اور نظام کو بیوروکریسی کے ماتحت چلایا جارہا ہے تو ہماری جمہوری قوتوں کو کوئی  فرق نہیں پڑتا یا اس کی کوئی موثر اور طاقت ور مزاحمت ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

بلاول بھٹو تواتر کے ساتھ 18ویں ترمیم کے تحفظ کی جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ وفاق اس اہم ترمیم کو ختم کرنے کا ایجنڈا رکھتا ہے۔ بلاول بھٹو سے یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ سندھ میں یہ ان کی تسلسل کے ساتھ تیسری حکومت ہے اور 11برس سے ان کی جماعت سندھ صوبے کی حکمران ہے۔18ویں ترمیم2010میں منظور ہوئی مگر اس کے بعد سے لے کر اب تک سندھ کی حکومت  سندھ کے ضلعوں کو آئین کی شق140-Aکے تحت سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ہی رویہ مسلم لیگ ن کا پنجاب میں اور خیر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کا بھی رہا ہے۔سیاسی جلسوں، اہل دانش کی مجالس یا سیاسی جماعتوں کے منشور میں  مقامی نظام کی اہمیت ایک طرف جبکہ اصل رویہ، سوچ او رفکر ان کے عملی اقدامات کی صورت میں نظر آتا ہے جہاں مقامی حکومتوں کا نظام کی ترجیحات بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ہم دنیا کے حکمرانی کے سبق سے کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں جہاں حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے مقامی نظام کی مضبوطی کو فوقیت دی گئی ہے۔

پاکستان کی طاقت ور سیاسی اشرافیہ یا حکمران طبقات کو سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ واقعی حکمرانی کے نظام کو یا گورننس کے بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد علاج مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔جب تک ہم بڑی سیاسی، انتظامی، قانونی اور مالی اصلاحات اس نظام  میں نہیں کریں گے یہ نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا۔یہ جو ملک میں حکمرانی کا بحران ہے او رلوگوں میں عدم اطمینان ہے اس کی بڑی وجہ مقامی سطح پر نظام کی کمزور ہے۔ ہم مقامی نظام کو تیسرے درجے کی حکومت سمجھنے کے لیے تیار نہیں حالانکہ وفاقی، صوبائی حکومتوں کی اہمیت اپنی جگہ مگرمقامی نظام کی اہمیت لوگوں کے مفادات کے تناظر میں زیادہ بڑی ہے۔

اس نظام کی کمزوری کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ نظام بنیادی طو رپر صوبائی معاملہ ہے۔اگر صوبائی حکومتیں اس نظام کی افادیت کے تناظر میں کوئی بڑا یا خاطرخواہ کام نہیں کرتیں یا انتخابات سے گریز کرتی ہیں یا نظام کو کمزور بناتی ہیں تو وفاق کا اس نظام کی بہتری میں کوئی کردار نہیں نظر آتا جس سے صوبائی حکومتیں اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق نظام کو کمزو ربھی رکھتی ہیں اور اس نظام کے تناظر میں اپنا غیر جمہوری اور آمرانہ نظام کو تقویت دیتی ہیں۔حالانکہ چند بنیادی اصولوں میں وفاق کا کردار ہونا چاہیے اور جوصوبہ مقامی نظام سے انحراف کرے یا اسے مضبوط بنانے سے گریز کرے تو وفاق کا صوبوں میں کوئی جوابدہی کا کردار ہونا چاہیے۔

پنجاب ا ور خیبرپختونخواہ میں تحریک انصا ف کی حکومت ہے۔اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت دونوں صوبوں میں ایسا جیسا نظام قائم کرتی۔لیکن دونوں صوبوں کے لیے علیحدہ علیحدہ نظام دیا گیا ہے۔ تحریک انصا ف کا مقامی حکومتو ں کا نظام بھی آئین کی شق 140 اے کے بہت سے پہلوؤں کی نفی کرتی ہے۔یہ بات درست ہے کہ سیاست میں کوئی بھی نظام مکمل طو رپر شفاف نہیں ہوتا اور کئی پہلو ایسے ہوتے ہیں جس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی، پنجاب سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن او راب تحریک انصا ف کا مجموعی رویہ مقامی نظام کے حوالے سے کافی تضادات رکھتا ہے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم سیاست میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی بات تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر عدم مرکزیت کے مقابلے میں مرکزیت کے نظام کے حامی ہیں جہاں نچلی سطح پر لوگوں کو بااختیار بنانا  ایجنڈے کا حصہ نہیں۔

اس وقت سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور پنجاب کے مقامی نظام پر کئی طرح کے سوالیہ نشان ہیں۔ پنجاب میں نیا نظام  صوبائی حکومت نے متعارف کروادیا ہے مگر انتخابات میں تاخیر ہے او رکہا جارہا ہے کہ یہ انتخابات اگلے برس یعنی جون2020تک  ہوں  گے۔ یعنی ایک برس تک یہ نظام بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان جن کی سیاست کا بنیادی نکتہ مقامی نظام ہے،وہ بھی بہت سے معاملات میں لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کافی سرگرم ہیں او رثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تمام تر تنقید کے باوجود ایک بہتر وزیر اعلی ہیں۔ لیکن ان کو بھی سوچنا چاہیے کہ مقامی نظام حکومت کے طور پر وہ کہاں کھڑے ہیں۔

 ان کے سامنے مقامی نظام حکومت کے تناظر میں چار چیلنجز ہیں۔ اول فوری طو رانتخابات کا مرحلہ تاکہ سیاسی او رجمہوری طو رپرعوام کے منتخب نمائندے مل کر مقامی نظام کو مضبوط بنائیں۔ دوئم اس نظام میں جہاں جہاں خامیاں ہیں وہ تمام فریقین کی مدد او رمشاورت سے اصلاحات کے عمل کو یقینی بنائیں۔ سوئم آئین کی شق140-Aکے تحت اس امر کو یقینی بنائیں کہ ان مقامی اداروں کو تیسرے درجے کی حکومت مان کر ان کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کو یقینی بنائیں او راس نظام میں بیوروکریسی کے تسلط کو ختم کیا جائے۔چہارم اس نظام کی مضبوطی کے لیے بنیادی نوعیت کے معاملات کو مقامی نظام کے ساتھ جوڑ کر چلایاجائے او رمقامی لوگ اپنے آپ کو اس مقامی نظام حکومت میں اپنی ملکیت کا احساس  پیدا کریں۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار واقعی اگر خود کو ماضی کے حکمرانوں سے مختلف او رمثبت طو رپر پیش کرنا چاہتے ہیں تو ان کو اپنی حکمرانی کے نظام میں مقامی نظام حکومت کو اپنی سیاسی طاقت بنانا ہوگا۔ وہ قومی او رصوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ترجیحات کا ضرور خیال رکھیں مگر اصل توجہ کا مرکز ان کا مقامی نظام ہونا چاہیے۔کیونکہ جمہوریت میں حکمرانی کے نظام کو جانچنا یا پرکھنا ہو کہ وہ کس حد تک عام لوگوں کے مفادات او ران کی اپنی ترجیحات سے جڑا ہوا ہے تو اس میں مقامی نظام حکومت کو بنیاد بنانا ہوتا ہے۔

 تحریک انصاف اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ان سیاسی غلطیوں سے پرہیز کرنا چاہیے جو ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں۔اس لیے عثمان بزدار کا امتحان ہے کہ وہ مقامی نظام حکومت میں کیا کچھ مختلف کرکے دکھاتے ہیں۔