احتساب عدالت نے مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست خارج کردی

  • جمعہ 19 / جولائی / 2019
  • 4270

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کردہ جعلی ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق درخواست خارج کردی ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائے جانے کے تقریباً ایک سال بعد مریم نواز کو ان جائیدادوں کی جعلی  ٹرسٹ ڈیڈ پیش کرنے پر 19 جولائی کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔ مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت پہنچی تھیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔ اس دوران ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب سردار مظفر اور مریم نواز کے وکیل امجد پرویز پیش ہوئے۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی۔ اس پر عدالت میں موجود مریم نواز نے کہا کہ عدالت کویاد دلانے میں آپ کوایک سال کاعرصہ کیوں لگا۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہی عدالت کو بتارہا ہوں، جس پر مریم نواز نے کہا کہ تھوڑی سی دیر کردی بس ایک سال۔ اس پر واپس جواب دیتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دیر آئے درست آئے۔

نیب پراسیکیوٹر کے جواب پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہر وقت بندہ درست نہیں آتا۔ عدالت نے خود اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے جعلی دستاویز پر مریم نواز کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔ لہٰذا نیب اپیل کا حق فیصلے کے 30دن بعد کھو چکا ہے کیونکہ کارروائی کے لیے درخواست 30 دن کے اندر ہی دی جاسکتی تھی۔

اس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ جعلی ٹرسٹ ڈیٹ کا الزام فرد جرم سے حذف کردیا گیا تھا۔ نیب بتائے اب اس الزام پر مزید کیا چاہتے ہیں۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم سے الزام مریم نواز کی درخواست پر حذف کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا جعلی دستاویزات کا معاملہ فیصلے کے بعد دیکھا جائے گا۔

اس دوران سردار مظفر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا حکم نامہ عدالت کو پڑھ کر سنایا اور کہا کہ عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہے۔ عدالتی حکم نامہ موجود ہونے پر 30 دن میں کارروائی کی پابندی نہیں ہے۔

تاہم بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے نیب کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا گیا۔

احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ یہ اپیل ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ یہ عدالت اس پر کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔ جب کبھی اپیل پر فیصلہ آئے گا تو اسے دیکھیں گے۔

قبل ازیں عدالت پہنچنے کے لیے مریم نواز جاتی امرا سے روانہ ہوئیں تھیں، جہاں ان کے ہمراہ لیگی کارکنان بھی موجود تھے جبکہ احتساب عدالت کے باہر بھی مسلم لیگ کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی اور اس دوران پولیس اور کارکنان میں تصادم ہوا، جس پر متعدد لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

ادھر کارکنان کی گرفتاری پر مریم نواز نے کہا تھا کہ ’انہیں شرم آنی چاہیے، 126 دن اسلام آباد بند کرنے والوں کو یہ برداشت نہیں ہورہا، مریم نواز پہنچی نہیں اس کا خوف پہلے پہنچ گیا، اگر اتنا ہی ڈر تھا تو کیوں سلیکٹڈ ہوئے‘۔