ایران نے دو برطانوی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیے
- ہفتہ 20 / جولائی / 2019
- 5610
ایران نے آبنائے ہرمز میں دو برطانوی آئل ٹینکرز قبضے میں لے لیے ہیں۔ کچھ روز پہلے برطانیہ کے رائل میرینز نے جبرالٹر میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا تھا جس پر شام کے لئے تیل جانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعہ کو برطانوی وقت کے مطابق شام چار بجے برطانیہ میں رجسٹرڈ سٹینا ایمپیرو نامی تیل بردار جہاز کو اپنی تحویل میں لیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ تیل بردار جہاز نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ تھوڑی دیر بعد ہی پاسداران انقلاب نے ایم وی میڈسر نامی آئل ٹینکر پر بھی قبضہ کر لیا جسے ایرانی ساحل سے کچھ دور دیکھا گیا۔ تاہم ایرانی ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
سٹینا ایمپیرو نامی تیل بردار جہاز کی مالک شپنگ کمپنی سٹینا بلک نے کہا ہے کہ ’ آبنائے ہرمز میں نامعلوم کشتیاں اور ہیلی کاپٹر آئل ٹینکر کے قریب آئے۔ اس وقت آئل ٹینکر بین الاقوامی پانیوں میں تھا۔‘ آئل ٹینکر پر عملے کے 23 ارکان سوار تھے جن میں بھارت، روس، لٹویا اور فلپائن کے شہری شامل ہیں۔ کمپنی کے ترجمان نے بتایا کی ’ آئل ٹینکر عملے کے کنٹرول میں نہیں اور نہ ہی اس سے رابطہ ہو رہا ہے۔ ‘
برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے ایرانی اقدامات ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ جہاز رانی کی صنعت کے عہدے داروں نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد تجارتی بحری جہازوں کے لیے حفاظتی انتظامات بڑھانے پر زور دیا ہے۔
برطانوی دفاعی ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے ایرانی تیل بردار جہاز گریس ون ایران کے سپرد کرنے کی مشروط پیش کش کے بعد آئل ٹینکروں پر قبضے سے وزارت دفاع کو حیرت ہوئی ہے۔ گریس ون کو دو ہفتے پہلے جبرالٹر کی سمندری حدود میں روکا گیا تھا۔ ایران سے ضمانت دینے کے لیے کہا گیا تھا کہ اس کا آئل ٹینکر شام نہیں جائے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے دو آئل ٹینکرز پر قبضے کے بعد کوبرا کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے ’ تہران میں ہمارے سفیر صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایرانی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم عالمی شرکت داروں کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں کام کر رہے ہیں۔ آئل ٹینکرز پر ایرانی قبضہ ناقابل قبول ہے۔ یہ ضروری ہو گیا ہے کہ جہاز رانی بحال رکھی جائے اور علاقے میں تمام بحری جہاز سلامتی کے ساتھ آزادانہ سفر کر سکیں۔ ‘
وزارتی اجلاس کے بعد برطانوی حکومت کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ برطانیہ کو ایرانی اقدامات پر گہری تشویش ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی سطح پر آزادانہ جہاز رانی کے لیے کھلا چیلنج ہیں۔ ہم نے برطانوی جہاز ران کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الحال خلیجی علاقے سے دور رہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا وہ برطانوی آئل ٹینکرز پر ایرانی قبضے پر برطانیہ سے صلاح مشورہ کریں گے۔ اس سے پہلے دن کے آغاز میں امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرون مار گرانے کے معاملے پر دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی تھی۔۔ ایران نے اپنا ڈرون مار گرائے جانے کی تردید کی ہے۔