قبائلی اضلاع میں ووٹر ٹرن آؤٹ 28 فیصد رہا

  • سوموار 22 / جولائی / 2019
  • 4300

ابتدائی مشاہداتی رپورٹ میں سابق فاٹا کے سات اضلاع کی 16 نشستوں پر ہونے والے پہلے انتخابات کو مجموعی طور پر شفاف کہا ہے ۔

فافن کے سکریٹری جنرل حمید اللہ کاکڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انتخابی نتائج میں تاخیر اور گنتی میں سست روی کے علاوہ سابق قبائلی اضلاع کا الیکشن مجموعی طور پر پر امن رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 28 فیصد آبادی نے اپنا حق رائے دہی استمعال کیا جس میں 20 فیصد خواتین اور 33 فیصد مرد ووٹر شامل تھے۔

حمید اللہ کاکڑ کے مطابق ان انتخابات میں 2018 کے عام انتخابات کی نسبت ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی جس کی ایک وجہ ان انتخابات میں تین لاکھ سے زائد نئے ووٹرز کا اندراج ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں سابق فاٹا میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 33 فیصد رہا تھا جو صوبائی اسمبلی کے لیے ہونے والے پہلے انتخابات میں 28 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

قبائلی اضلاع کی 16 صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے انتخاب کے لیے 1897 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے اور فافن رپورٹ کے مطابق ان میں سے 1233 ایسے پولنگ اسٹیشن تھے جن پر رجسٹرد ووٹرز کی تعداد بارہ سو سے زائد تھی۔ فافن کے سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر ان کے مبصرین کو انتخابی عملے کی جانب سے روکا گیا تاہم صوبائی الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنے پر بعض مقامات پر یہ دشواری حل ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ فافن کی جانب سے اپنے مبصرین کے ذریعے موصول ہونے والے نتائج اور سرکاری نتائج تقریباً ایک جیسے ہیں اور ان کی ابتدائی رپورٹ میں کسی قسم کی بڑی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی۔

پولنگ اسٹیشن پر فوج کی تعیناتی کے حوالے سے فافن کے سیکرٹری جنرل کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار 2017 کے پالیمنٹ سے منظور شدہ قانون کے تحت سیاسی جماعتوں نے دیا ہے۔

آزاد امیدواروں کے انتخابات میں بڑی تعداد میں کامیابی پر حمید اللہ کاکڑ نے کہا کہ سابق قبائلی اضلاع کے کچھ علاقوں میں قبائلی روایات کے مطابق ووٹ ڈالنے کا رجحان دیکھا گیا لیکن مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والی نشستیں اور ووٹ کی شرح قابل اطمینان ہے۔