جیل میں اب ٹی وی اور ایئرکنڈیشنر نہیں ملیں گے: عمران خان
- سوموار 22 / جولائی / 2019
- 4760
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں میرٹ کا نظام لے کر آ رہے ہیں، جہاں لوگوں کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر آگے لایا جائے گا۔
واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں منعقد ہونے والے جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پر مبنی دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں ان کی کرکٹ سے لے کر وزیراعظم پاکستان بننے تک کی جدوجہد کا سفر دکھایا گیا۔
عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کا نظام چلتا رہا ہے اور ایسے لوگ سربراہ بنتے رہے ہیں جنہیں فوجی ڈکٹیٹرز نے چنا تھا۔ اشرافیہ ٹیلنٹ کو اوپر نہیں آنے دیتی۔ ابھی ملک پر مشکل وقت ہے جو آئندہ چند مہینوں سے ایک سال میں ختم ہو جائے گا اور آپ پاکستان کو ہر سال تبدیل ہوتا اور اوپر جاتا دیکھیں گے۔
عمران خان کا بطور وزیرِ اعظم امریکہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔ امریکہ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے لیے عمران خان کے اس خطاب کا انعقاد کیا تھا۔ عمران خان کے اس خطاب کو سننے کے لیے کینیڈا میں بسنے والے پاکستانی بھی امریکہ آئے۔
وزیرِ اعظم نے بیرونی سرمایہ کاری پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس بے شمار معدنیات ہیں جن سے ملک میں توانائی کی کمی کا اور غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے، لیکن کرپشن کی وجہ سے غیرملکی کمپنیاں پاکستان کے ساتھ کاروبار نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ دنیا کی ہر کمپنی ایک ہی بات کرتی ہے کہ پاکستان میں رشوت مانگی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا جس کی وجہ سے پاکستان پر چھے ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت نے اداروں کو آزاد کیا ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) آزادی سے کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن ہر بات پر کہتی ہے کہ یہ گرفتاریاں عمران خان کے کہنے پر ہو رہی ہیں جبکہ یہ تمام کیسز پہلے کی حکومتوں میں بنائے گئے تھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ساری اپوزیشن میرے خلاف اکٹھی ہو گئی ہے کیونکہ ملک میں اب طاقتور کا احتساب ہو رہا ہے۔ یہ سب مجھ سے صرف تین لفظ سننا چاہتے ہیں۔ "این آر او" لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جیل میں گھر کا کھانا ملتا ہے، ائرکنڈیشنر اور ٹی وی کی سہولت ملی ہوئی ہے۔ یہ سہولتیں تو جیل سے باہر عام پاکستانیوں کو میسر نہیں ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری جیل جاتے ہی اسپتال منتقل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسا نہیں ہو گا اور جیل میں یہ آسائشیں نہیں ملیں گی۔
تعلیم پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے تمام اسکولوں میں ایک نصاب لا رہے ہیں۔ یکساں نظام تب آئے گا جب ہر طالب علم کو یکساں مواقع دستیاب ہوں گے۔ ملک میں موجود تین قسم کے تعلیمی نظام ختم کیا جائے گا اور سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر ہوگا۔
کیپیٹل ایرینا کے باہر تحریک انصاف کے حامیوں اور عمران خان کی آمد پر احتجاج کرنے والوں کے درمیان نعرے بازی کا مظاہرہ ہوا۔ بعض مظاہرین نے پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کی رہائی کے مطالبے کے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔
یہ تقریب واشنگٹن ڈی سی کے مشہور کیپٹل ون ایرینا میں ہوئی۔ اس ایرینا میں 20,000 لوگوں کی گنجائش ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ 19,000 پاکستانی امریکیوں نے پہلے ہی شرکت کے لیے رجسٹریشن کروا لی تھی۔ یہ ایرینا لوگوں سے تقریباً بھرا ہوا تھا۔ جلسے میں بہت پرجوش مناظر دیکھے گئے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں اس سے پہلے کسی غیر ملکی سربراہ نے اس طرح کا اتنا بڑا جلسہ نہیں کیا۔