صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتے ہیں: شاہ محمود قریشی
- منگل 23 / جولائی / 2019
- 5190
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کو پاکستان کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دورہ پاکستان کی دعوت بھی قبول کرلی ہے۔
ایک روز قبل پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، تجارت اور بہتر تعلقات کے فروغ، خطے میں امن و استحکام اور افغان مسئلہ زیر بحث آیا۔
ملاقات کے بعد واشنگٹن میں میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات 3 گھنٹے تک جاری رہی جبکہ اوول آفس میں 40 منٹ کی علیحدہ ملاقات ہوئی۔ دوسری ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اعلیٰ سول اور عسکری قیادت شریک ملاقات تھی۔ ان میں وزیر خارجہ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی فیض حمید بھی موجود تھے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ہمراہ ڈائریکٹری سی آئی اے، قائم مقام ڈپٹی سیکریٹری ڈیفنس موجود تھے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک عظیم ملک، پاکستانیوں کو ایک عظیم قوم اور وزیراعظم عمران خان کو ایک عظیم لیڈر قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں پاکستان کے ایک معروف وزیراعظم سے ملاقات کررہا ہوں۔
شاہ محمود قریشی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا آغازہے۔ واشنگٹن پر واضح کر دیا گیا ہے کہ اسلام آباد ان سے 'ایڈ' نہیں بلکہ 'ٹریڈ' چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ماضی سے ہٹ کر مضبوط تعلقات جاہتے ہیں جبکہ انہوں نے وسیع بینادوں پر پاکستان کے ساتھ شرکت داری قائم کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے سرمایہ کاروں کے ساتھ کئی نشستیں کی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارت میں 20 گنا تک اضافے کی خواہش کا اظہار کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک میں تجارت بڑھانے کے امکانات موجود ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت تجارت ناکافی ہے۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول کرلی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالقات سے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے امکانات بھی ابھرے ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'میں پہلے بھی بطور وزیر خارجہ امریکی صدور سے ملاقاتیں کرچکاہوں، لیکن امریکا میں مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش کا اتنا واضح اظہار آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔'
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اوول آفس میں امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر اور اس کی تاریخ کے بارے میں آگاہ کیا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔