بھارت جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے تو پاکستان بھی ایسا کرے گا: عمران خان
- منگل 23 / جولائی / 2019
- 5210
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں۔ بھارت جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے تو پاکستان بھی ایٹمی ہتھیار ترک کردے گا۔
انہوں نے امریکی ٹی وی چینل ’فوکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'پاکستان نہیں چاہتا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھے۔ امریکہ اور ایران کشیدگی سے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خطے کا امن اور معیشت متاثر ہونے کا خطرہ ہے'۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں'۔
پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں۔ ایک ارب سے زائد آبادی والا یہ خطہ جنگوں سے پہلے ہی متاثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'خطے میں مکمل امن اور خوشحالی چاہتے ہیں، ایٹمی ہتھیار کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں'۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، امریکہ واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت مہذب ہمسایوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مسلح افواج پیشہ ور اور ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کا انتہائی جامع اور موثر جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ شکیل آفریدی کی بات کرتا ہے تو امریکہ سے ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے تبادلے پر بات چیت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکی جاسوس کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب اینکر کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ اکیلے فیصلہ نہیں لے سکتے جس پر عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت ہے۔ یہاں اپوزیشن موجود ہے۔ وزیر اعظم کے لیے اکیلے فیصلہ لینا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں بات چیت ہوسکتی ہے۔
خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔
القاعدہ کے بانی قائد اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے اتحادی تھے۔ امریکہ کو اسامہ بن لادن سے متعلق پاکستان کو معلومات فراہم کرنی چاہیے تھی جس کے بعد پاکستانی اداروں کو اسے انہیں پکڑنا چاہیے تھا۔ تاہم امریکہ نے پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا اور ہماری حدود کے اندر داخل ہوکر 'ایک شخص' کو قتل کیا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان پر حملہ نہیں ہوا لیکن پھر بھی اس نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں حصہ لیا جس میں 70 ہزار پاکستانی مارے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، افغانستان کے امن اور استحکام میں پاکستان کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے کیونکہ ہمسایہ ملک میں بدامنی سے براہ راست پاکستان پر اثرپڑتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ داعش پاکستان، امریکہ اور افغانستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ صدر ٹرمپ صاف گو انسان لگے جو لفظوں کی ہیرا پھیری نہیں کرتے۔ میرا پورا وفد بھی میٹنگ سے بہت خوش ہے۔
صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا مثبت کردار بھی ادا کرنا چاہتے ہیں۔