اداکار محسن عباس کو دنیا ٹی وی سے نکال دیا گیا
- بدھ 24 / جولائی / 2019
- 7430
دنیا ٹی وی نے گھریلو تشدد کے الزامات کے بعد نامور اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر کو ٹی وی پروگرام مذاق رات سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محس عباس نے اپنے کیریئر میں شوز کی میزبانی کرتے ہوئے بھی خوب نام کمایا ہے۔ وہ گزشتہ کئی سال سے دنیا ٹی وی کے شو 'مذاق رات' کا حصہ رہے ہیں۔ چینل نے یہ قدم محسن عباس حیدر کی جانب سے اہلیہ پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد اٹھایا۔
محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے چند دن قبل فیس بک پر شیئر کردہ ایک پوسٹ میں ان پر گھریلو تشدد اور شادی شدہ ہونے کے باوجود افیئر چلانے کا الزام لگایا تھا۔ دنیا ٹی وی نے اداکار کو بےگناہ ثابت ہونے تک اپنے پروگرام کا حصہ بنانے سے انکار کردیا ہے۔
دنیا ٹی وی کی انتظامیہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ وہ محسن عباس حیدر پر گھریلو تنازع کی بنیاد پر ہونے والے کیس کی وجہ سے انہیں اپنے شو 'مذاق رات' کا مزید حصہ نہیں بنائیں گے۔ چینل نے اداکار سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ جب تک محسن عباس حیدر اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرتے، وہ دنیا ٹی وی کے پروگرام کا حصہ نہیں ہوں گے۔
البتہ چینل پر نشر ہونے والے پروگرام کے حوالے سے انہوں نے بیان میں بتایا کہ فی الحال جو پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں، وہ اس ناخوشگوار واقعہ سے قبل ریکارڈ کیے گئے تھے۔
محسن عباس کی اہلیہ کی جانب سے لگائے الزامات کے بعد کئی اداکاروں نے محسن عباس حیدر پر تنقید کی جبکہ 2 اداکاروں نے دعویٰ بھی کیا کہ وہ اس گھریلو تشدد سے آگاہ تھے۔ اداکارہ دعا ملک نے محسن عباس حیدر اور ان کی اہلیہ کے درمیان تنازع سے متعلق کہا تھا کہ ’میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ میں اس انڈسٹری میں واحد عینی شاہد ہوں، میں نے یہ آگ 3 سال سے اپنے دل میں چھپا کر رکھی ہے‘۔
اداکار گوہر رشید نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’ میں دوسرا شخص ہوں جو فاطمہ سہیل کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق آگاہ ہے۔ 2018 میں جب محسن عباس حیدر نے فاطمہ پر تشدد کیا تھا تو میری دوست اسے ہسپتال لے کر گئی تھی۔ مجھے اسی کے ذریعے پوری بات کا علم ہوا، فاطمہ میری بہن جیسی ہے‘۔
پاکستانی اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے رواں ماہ 20 جولائی کو اپنے شوہر پر گھریلو تشدد اور شادی شدہ ہونے کے باوجود افیئرز چلانے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد اب لاہور کے ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں اداکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ محسن عباس حیدر کے خلاف ایف آئی آر دفعہ 406 اور 506 کے تحت درج کی گئی جبکہ ان پر درخواست گزار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں فاطمہ نے اپنے شوہر پر الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ چار سال قبل محسن کا رویہ ان کے ساتھ کافی خراب ہونا شروع ہوگیا تھا اور وہ متعدد مواقع پر ان سے بہت بری طرح پیش آتے تھے۔ محسن کا کسی اور خاتون کے ساتھ افیئر بھی سامنے آیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 'محسن نے مجھ سے مطالبہ کیا تھا کہ میں اپنے گھر والوں سے پیسے لے کر ان کے پاس جاؤں تاکہ وہ نیا کاروبار شروع کرسکیں، جس کے لیے میرے والد نے انہیں 50 لاکھ روپے بھی دیے۔ کچھ عرصے بعد جب میں نے محسن سے اس رقم اور بزنس کے حوالے سے سوال کیا تو محسن نے میرے ساتھ بدسلوکی کی اور مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور والدین سے مزید 50 لاکھ روپے لانے مطالبہ کیا، جس کے انکار پر انہوں نے مجھ پر جسمانی تشدد شروع کردیا۔'
فاطمہ نے دعویٰ کیا کہ ’گزشتہ سال 26 نومبر کو میں نے محسن کو رنگے ہاتھوں پکڑا اور پوچھنے پر محسن نے ان پر حاملہ ہونے کے باوجود تشدد کیا جس کے باعث میرے چہرے اور جسم پر چوٹوں کے نشان بھی آئے‘۔
اس دوران ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے اس کیس میں محسن عباس کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔ محسن عباس حیدر نے اہلیہ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ جھوٹ ہے۔ میں نے ان کو چھوا بھی نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ماضی میں غصے کے حوالے سے مجھے مسائل رہے ہیں مگر اب میں بدل چکا ہوں‘۔