پاکستان نے افغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے کر غلطی کی تھی: عمران خان
- بدھ 24 / جولائی / 2019
- 5100
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرح پاکستان کا بھی افغانستان میں جلد از جلد امن کا حامی ہے۔
امریکی کانگریس کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کی ہرممکن کوشش کرے گا۔ وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران امریکی اراکین کانگریس سے خطاب کیا۔ اسپیکر نینسی پیلوسی نے ان کا استقبال کیا۔
نینسی پیلوسی نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی ہمارے لیے ایک ’بہترین تحفہ‘ ہیں۔ امریکی ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کے بارے میں آگاہی اس وقت ہوئی جب وہ یونیورسٹی میں تھیں جہاں انہیں ساڑھی میں ملبوس ایک دوسری طالب علم نے تجویز دی کہ وہ لائبریری میں بانی پاکستان محمد علی جناح پر موجود کتابیں پڑھیں، جس کے ذریعے انہیں ان کی عظمت کے بارے میں علم ہوا تھا۔ نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اہم ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ آسان نہیں ہوگا لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اپنی بہترین کوشش کرے گا کیونکہ ’پورا ملک میرے پیچھے کھڑا ہے، پاک فوج، سیکیورٹی فورسز سب میرے پیچھے ہیں۔ ہم سب کا ایک مقصد ہے اور وہ بالکل وہی ہے جو امریکہ کا مقصد ہے کہ افغان مسئلے کا جتنا جلدی ممکن ہو پرامن حل نکال کر وہان قیام امن ہو۔
انہوں نے کہا کہ’مجھے امید ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات مختلف نوعیت کے ہوں گے۔ کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی تکلیف دہ تھی‘۔ عمران خان نے کانگریس کے اراکین کو بتایا کہ امریکہ کے دورے کا مقصد امریکیوں کو پاکستان کے بارے میں بہتر آگاہی فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’جب میں یہاں سے جاؤں گا تو میں یہاں ایسے لوگ بنا چکا ہوں گا جو ہمارے نقطہ نظر کو سمجھ سکیں‘۔ زیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ہم دوبارہ وہ تعلقات بنائیں گے جو قربت، بھروسے اور باہمی احترام پر مبنی ہوں‘۔
دورۂ امریکہ کے آخری دن منگل کو واشنگٹن میں امریکی ادارہ برائے امن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب فوج کو سول علاقوں میں بھیجا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی شکل میں نکلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجی گئی، اور پھر وہاں ہونے والے ’کولیٹرل ڈیمج‘ کے نتیجے میں پاکستانی طالبان وجود میں آئے تھے۔ انہوں نے کہا ’ہمیں کبھی بھی قبائلی علاقوں میں فوج نہیں بھیجنی چاہیے تھی کیونکہ قبائلی علاقہ ہمیشہ خودمختار رہا ہے جس کے اپنے قوانین ہیں حتیٰ کہ برطانیہ نے اپنے دور حکومت میں اس علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘
انہوں نے کہا ’فوج کو سول علاقوں میں نہیں بھیجنا چاہیے کیونکہ آپ جب بھی فوج کو سول علاقوں میں بھیجیں گے تو آپ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوں، کولیٹرل ڈیمج ہو گا، معصوم انسان مریں گے کیونکہ وہاں کوئی فوج نہیں ہوتی بلکہ صرف دیہات سے گوریلا کارروائیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کولیٹرل ڈیمج کی وجہ سے پاکستانی طالبان وجود میں آئے کیونکہ اس سے پہلے پاکستانی طالبان نہیں تھے۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی بجائے غیرجانبدار رہنا چاہیے تھا۔ ’اگر پاکستان اس وقت غیرجانبدار رہتا تو ان عسکریت پسند گروہوں کو وقت کے ساتھ ساتھ کنٹرول کیا جا سکتا تھا لیکن چونکہ ہم امریکی جنگ کا حصہ بنے اس لیے وہ ہمارے خلاف ہو گئے۔‘