نئے ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی تقسیم میں بد انتظامی

پاکستان میں یہ عمومی تاثر ہے کہ یہاں پر تیزی سے پانی کی قلت ہو رہی ہے جس کیلئے دو ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے۔  قدرت نے پاکستان کو پانی کی فراہمی کیلئے تین بڑے نظام دیئے ہیں۔

جنوب میں بحر عرب، آسمان پر سورج اور شمال میں اونچے پہاڑ، ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش۔ جب سورج چمکتا ہے تو سمندر سے اٹھنے والے پانی کے بخارات شمال کی طرف سفر کرتے ہیں اور اونچے پہاڑوں سے ٹکراتے ہیں۔ ٹھنڈے ہو کر بارش یا برف بناتے ہیں، گلشیر بنتے ہیں دریا اور ندی نالے میدان کی طرف بہنے لگتے ہیں۔ یہ معاملات صدی سے چل رہے ہیں۔ یہ سسٹم اسی صورت تبدیل ہو سکتا ہے جب بحرعرب خشک ہو جائے اور پہاڑ میدان بن جائے مگر یہ عمل اتنی تیزی سے بند نہیں ہو سکتا ہے۔ جبکہ سورج سمندر اور پہاڑ موجود ہیں پانی میں کمی نہیں ہو سکتی۔گلوبل وارمنگ سے بارشوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور گلیشیر پگھل سکتے ہیں مگر اس سے پانی میں کمی نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں ماضی بعید میں سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی۔ اب ہمیں  پانی زراعت کے لئے دستیاب ہوتا ہے جس میں سے زیادہ ناقص نہری نظام کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔اگر ہم نہروں کے نظام کو درست کریں تو ہم فاضل غذائی پیدا وار پیدا کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں پانی کا ضیائع بہت زیادہ ہے اس سے پیدا ہونے والی قلت کی وجہ سے صوبوں کے درمیان تضادات اور جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرے زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال جس سے پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ واٹر سیکٹر میں بد انتظامی اور کرپشن ہے۔ شہری علاقوں، بالخصوص بڑے شہروں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ شہروں میں واٹر مافیا نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیر ن بنا رکھا ہے۔ بعض علاقوں میں صاف پانی کو گاڑیوں کے صاف کرنے اور دیگر ضروریات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کہیں پر لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔جس کی وجہ ناقص منصوبہ بندی پانی کے بوسیدہ پائپ اور چوری شامل ہیں۔ہمارے پانی سے متعلق محکمے پانی کی کمی کا ہمیشہ شکوہ کرتے ہیں مگر اپنی نا اہلی کو درست کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔

کیا ہم ڈیموں کے ذریعے پانی کے ضائع کو روک سکیں گے کیا ہم ماحولیات کی  آلودگی کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ کیا ہم بد عنوانی کو ختم کر سکتے ہیں۔ کیا ہم مون سون کے پانی کا بہتر استعمال کر سکتے ہیں۔ان تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جس میں ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ پانی کے نچلی طرف بہاؤ کی ضرورت ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے نہری نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے جس سے ٹیل تک پانی کی فراہمی کی جا سکتی ہے۔ ڈیم مساوی عوامل کو بروئے کار لا کر دریاؤں کو ٹرانسپورٹ کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے کافی آمدنی ہو سکتی ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان کے پانی کے بحران کے حوالے سے شور کا مقصد مسائل کو حل کرنا نہیں اصل مسئلہ انتظامی امور کو بہتر بنانا اور پانی کے ضائع کو روکنا ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 تک پاکستان کا شمار دنیا کے تیسرے پانی کی قلت سے دوچار ممالک میں ہوگا۔ 2040میں یہ جنوبی ایشیا  کا سب سے کم پانی رکھنے والا ملک ہوگا۔ پاکستان اس وقت دنیا کا چوتھا زیادہ پانی استعمال کرنے والا ملک ہے جس کی جی ڈی پی کا ایک یونٹ تھری ایم کیوب میٹر پانی استعمال کرتا ہے۔ اس کا مقصد ہے مستقبل میں ہمارے لیے زیادہ پانی دستیاب نہیں ہوگا۔ پانی کی قلت اور دستیابی کے حوالہ سے ناپنے کے تین پیمانے ہیں۔ فالکن مارک جس سے انسانی آبادی کے مقابلے میں پانی کی دستیابی کو ناپا جا سکتا ہے۔ ایسے ممالک جہاں پر 1700پانی فی کس دستیاب ہے دباؤ کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ پانچ سو رکھنے والے شدید قلت سے دو چار ہوتے ہیں۔ 1951سے قبل پاکستان میں پانی کی فراہمی پانچ لاکھ دو سو ساٹھ تھی جو کہ اب نو سو تین رہ گئی ہے۔ جس کی وجہ آبادی میں اضافہ اور پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر  نہ ہونا ہے۔  جوں جوں آبادی بڑھتی جائے گی اس کی کمی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ہم تیزی سے پانی کی عدم دستیابی کے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ ہم ذخائر اور زیر زمین پانی کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ ہم سطح زمین سے 140بی ایم تھری اور زیر زمین پانی کا باسٹھ بی ایم تھری استعمال کر رہے ہیں۔

اگر اسی تناسب سے پانی کی سپلائی میں کمی آتی گئی تو اس کی کامیابی2025میں 31%ہوگی۔ معاملات کی بہتری کیلئے اور پانی کے مسائل کے حل کیلئے ہمیں واٹر غریبی انڈکس کے پانچ اجزا پر غور کرنا ہوگا۔پانی تک رسائی پانی کی مقدار اور معیار اور دستیابی، پانی کا گھریلو خوراک اور پیدا واری عمل کیلئے استعمال، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ماحولیات اثرات شامل ہیں۔ پاکستان میں کم مقدار میں پانی دستیاب ہے۔ واٹر کونسل سروے کے مطابق پاکستان کے چوبیس بڑے شہروں میں اسی فیصد ناقص پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ صرف تیس فیصد شہری اور چودہ فیصد دیہاتی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔ اس حوالے سے قائم کی جانے والے کمپنیاں کرپشن اور انتظامی بحران سے دو چار ہیں۔

پاکستان میں پانی کی کمی کی وجوہات میں ذخائر کرنے کی کم صلاحیت سر فہرست ہے۔ امریکہ اور  آسٹریلیا میں فی کس پانی کا سٹورج 500ایم تھری، چین میں 2200ایم تھری، مصر میں 2362ایم تھری، ترکی میں 1402ایم تھری ایران492ایم تھری، ہندوستان میں 250ایم تھری جبکہ پاکستان میں 169ایم تھری  ہے۔ جبکہ پانی ذخائرہ کرنے کی صلاحیت مصر میں 1000دن، امریکہ900د ن، جنوبی افریقہ500دن، ہندوستان میں 200دن اور پاکستان کے پاس صرف 130دن کا ہے۔ جبکہ کم از کم ذخیرہ 130ہونا چاہئے۔ ہم صرف نو فیصد پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں جبکہ دنیا میں اس کی اوسط چالیس فیصد ہے۔پاکستان میں ڈیموں میں مٹی اور ریت بھر جانے سے ان کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے، ہم سالانہ 0.27ایم تھری پانی کے ذخائر کھو رہے ہیں۔ پاکستان کو 80%پانی جون تا ستمبر کے 90دنوں میں ملتا ہے جبکہ32ایم اے ایف بحر عرب میں ڈال دیا جاتا ہے۔ 50%پانی ناقص نظام آبپاشی سے ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں قابل کاشت رقبہ77ایم اے میں سے75ایم زیر کاشت ہے جس کو نہری اور بارانی علاقوں میں بارشوں اور  زیر زمین پانی سے کاشت کیا جاتا ہے مزیدزمین کو بھی زیر کاشت لایا جا سکتا ہے مگر اس کیلئے پانی کی ضرورت ہے ورلڈ بینک کے1967میں ایک رپورٹ میں حکومت کو تجاویز دی تھی کہ 10سال میں کم از کم ایک ڈیم تعمیر کیا جانا چاہیے مگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں اب موجودہ حکومت ڈیموں کی تعمیر کے حوالے میں سر گرم عمل ہے جس کیلئے عدالت عالیہ نے بھی خاصی دلچسپی کے ساتھ ابتدائی اقدامات اٹھائے ہیں۔ زرداری حکومت نے2009میں ڈیموں کے پراجیکٹ کے لئے 112ارب ڈالر کی منظوری دی تھی مگر مالیاتی اداروں کی طرف سے مدد نہ ملنے کی وجہ سے ڈیم کی تعمیر شرو ع نہ ہو سکی۔ نواز شریف حکومت نے120ارب روپے زمین کی خریداری کیلئے رکھے تھے جس کیلئے کچھ کام کیا گیا تھا۔اس منصوبے کی اب لاگت 18ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو گی جو5.6ایم اے ایف پانی ذخیرہ کر سکے گا۔ ہماری حکومت کو چندے پر انحصار کرنے کی بجائے  بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ پانی کے  ضیاع کو روکنا چاہیے اور صوبائی حکومتوں کے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنا چاہیے۔

 موجودہ نہری نظام کو بہتر بنانے کیلئے نہرو ں راجوں اور کھالوں کے کناروں کو پختہ کرنا چاہیے جس سے 10ایم اے ایف پانی کی بچت ہو سکتی ہے۔ زمینوں کو ہموار کرنا چاہیے تا کہ ٹیل تک پانی کی رسائی ہو سکے۔ فواروں کے ذریعے فصلوں کوپانی دینا چاہیے۔ بارشی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے چھوٹے ڈیم بنانے چاہئیں۔ بڑے شہروں میں پانی کی ری سائیکلنگ کے پلانٹ لگانے چاہئیں۔پانی کو پاکستان کا محفوظ اثاثہ قرار دینا چاہئے اور زیر زمین پانی کی صنعتوں میں آزادانہ استعمال کو روکنا چاہئے۔

 اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان پہلے ہی اقدامات اٹھا چکی ہے آج نئے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ پاکستان میں موجود پانی کے ذخائر اور ان کے استعمال میں بد انتظامی اور کرپشن کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔