ٹرمپ عمران خان ملاقات اور مسئلہ کشمیر

یہ بات ابھی بھی ایک  راز ہے کہ آخر پاکستان نے امریکہ کے لئے ایسا کونسا کردار ادا کیا ہے یا کونسا کردار ادا کرنے کی ”فول پروف“ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ امریکہ پاکستان سے مکمل طور پر راضی ہو گیا ہے۔  امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد صحافتی نمائندوں سے سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے ملٹری،ٹیرر ازم، ٹریڈ اور کئی دیگر امور پر بات کی ہے۔

افغانستان امن عمل کی حمایت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک ہفتے سے دس دن کے اندر افغانستان کی جنگ جیت سکتا ہے لیکن اس میں ایک کروڑ افراد مر سکتے ہیں۔اسی لئے امریکہ مسئلے کے حل کے لئے امن کی راہ اختیار کر رہا ہے۔سوالات کے جواب میں امریکی صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا اور چین سے متعلق نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعلقات کو اچھا قرار دیا۔تاہم ٹرمپ نے ایران کے خلاف بات کی۔انہوں نے کہا کہ ایران اقتصادی بحران کا شکار ہے،امریکہ ایران سے متعلق اچھی یا بری ہر طرح کی صورتحال کے لئے تیار ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جھوٹ بولنے،جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے  وزیر اعظم عمران خان کی طرف متوجہ ہو کر مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ بھی تو ایران کی طرح جھوٹ نہیں بولیں گے؟  اس پر عمران خان نے فوراً  کہا نہیں بالکل بھی نہیں۔

پاکستان میں صحافیوں،میڈیا پر پابندی کے سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ گزشتہ دس مہینے میں پریس میں میری بہت مخالفت ہوئی ہے،عمران خان نے کہا کہ یہ کہنا مذاق ہے کہ پاکستان میں پریس پر پابندیاں ہیں۔پاکستان میں صحافیوں،میڈیا،آزادی اظہار پر بدترین پابندیوں اور کاروائیوں کی موجودہ صورتحال میں جب وزیر اعظم پاکستان اس بات کو جھوٹ اور غلط قرار دیتے ہیں تو اس سے پاکستان کے سب سے اہم حکومتی،سرکاری عہدیدار کی کسی بھی بات پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب آپ ڈھٹائی کے ساتھ غلط بیانی سے مسلسل کام لیتے ہیں تو آپ کی کہی گئی کوئی سچی بات بھی اعتبار کے قابل نہیں رہتی۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ افغانستا ن سے قطع نظر  جنوبی ایشیا کے لئے ایک خطرہ  مسئلہ کشمیر ہے جو اقوام متحدہ  کے تحت حل طلب ہے،  کے جواب میں امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ  ”دو ہفتے قبل میں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ اس موضوع پر بات کی، اصل میں انہوں نے کہا کہ کیا آپ ایک میڈی ایٹر   یا  آربیٹریٹر بننا پسند کریں گے؟  میں نے پوچھا کہ کہاں؟  تو انہوں نے کہا کہ کشمیر۔کیونکہ یہ دیرینہ مسئلہ ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ یہ مسئلہ کتنے عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ اسے حل ہوتے دیکھنا پسند کریں گے اور میرا خیال ہے کہ آپ بھی اس مسئلے کا حل چاہیں گے۔اور اگر میں مدد کر سکا تو میں ثالثی بہت پسند کروں گا۔  ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ میرا مطلب ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ تو دو ناقابل یقین ملک ہیں جن کی لیڈر شپ بہت  بہت سمارٹ ہے کہ اس طرح کا مسئلہ حل نہ کر سکیں۔ لیکن اگر آپ مجھ سے ثالثی چاہتے ہیں تو میں ایسا کرنا پسند کروں گا۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ اس مسئلے کو حل کرانے میں ثالثی کرا سکیں تو  آپ کو کروڑوں لوگوں کی دعائیں ملیں گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس مسئلے کو حل ہونا چاہئے،لیکن اس نے(مودی نے) مجھ سے یہی کرنے کو کہا ہے۔ چنانچہ میں خیال کرتا ہوں کہ یہاں کچھ کیا جا سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ آپ اس سے بات کریں یا میں ان سے بات کروں اور ہم دیکھیں گے کہ ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ میں نے کشمیر کے بارے میں بہت سنا ہے،کیا خوبصورت نام ہے اور یہ دنیا کا خوبصورت حصہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن اس وقت وہاں ہر طرف بم گر رہے ہیں،یہ خوفناک صورتحال ہے، ایسا کئی سالوں سے ہو رہا ہے اگر میں اس بارے میں کچھ کر سکتا ہوں تو مجھے مطلع کریں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس حوالے سے میں افغانستان کی بات کرتا ہوں کہ جہاں ہم نے ایٹم بم کے علاوہ اب تک کے سب سے بڑے بم استعمال کیا لیکن پھر مسئلہ حل کرنے کی لئے مذاکرات کا پرامن راستہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔

عمران خان نے اسی سوال کے جواب میں کہا کہ میں صدر ٹرمپ سے کہنا چاہوں گا کہ وہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک ہیں۔دنیا میں وہ بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔بر صغیر میں امن لانے کے لئے،  برصغیر کے کروڑوں لوگ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ”یر غمال“ بنے ہوئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ طاقتور ملک کے صدر ٹرمپ دونوں ملکوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں،  ہم انڈیا کے ساتھ ڈائیلاگ کے لئے اپنی بھر ور کوششیں کریں گے۔ اپنے مسائل ڈائیلاگ سے حل کرنے کی کوشش کریں گے،ابھی تک ہمیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ سے   امید کرتے ہیں کہ یہ پراسیس آگے بڑھے گا۔

جنرل ایوب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ا نہوں نے اس وقت کے امریکی  صدرکی تعریف کرنے کے بعد کہا کہ آپ کی اتنی خوبصورت اور طاقتور شخصیت ہے، آپ مسئلہ کشمیر حل کر ا دیں ۔  اس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ میں کیا کروں،جب بھی کشمیر کے معاملے پر وزیر اعظم شاستری سے بات کرتا ہوں تو وہ سر جھکا کر خاموش ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان اچھے اور برے تعلقات کے دور میں مسئلہ کشمیر سے متعلق امریکہ کے بیانات مختلف رہے ہیں۔ اچھے تعلقات میں امریکہ  دونوں فریقین کی رضامندی کی صورت اپنی ثالثی کی بات کرتا ہے۔اور جب پاکستان ”ڈو مور“ کی شرائط پوری نہ کر رہا ہو تو مسئلہ کشمیر امریکہ کی عدم دلچسپی کی صورت نظر آنے لگتا ہے۔تا ہم گزشتہ کئی سال سے انڈیا اور پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے امریکہ کی سہولت کاری نظر نہ آ سکی۔

دنیا کے طاقتورترین ملک امریکہ کے با اختیارصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کی  سنگینی اور اس کے حل کی ضرورت کے اظہار سے اس حقیقت کا ایک مضبوط اظہار ہوا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پرامن طور پر حل کرنا اہم ہے۔مسئلہ کشمیر امریکی صدر کے اظہار میں آنے سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت کا عالمی سطح پر اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت عیاں ہے کہ امریکہ  کے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کے لوگوں کو ہی فریقین کی حیثیت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں 1988سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کئے جانے کے مطالبے سے سیاسی اور مسلح جدو جہد کی تحریک جاری ہے۔ اس تحریک میں کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن وہاں کے عوام کی بھر پور حمایت کے ساتھ تحریک مزاحمت کسی نہ کسی انداز میں جاری ہے۔

مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے کشمیریوں نے امریکی صدر کے مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال یہ ہے کہ بھارت نے نہتے کشمیریوں کے خلاف بھرپور فوجی دباؤ، آزادی پسند رہنماؤں،کارکنوں کے خلاف مختلف الزامات میں سخت ترین کاروائیوں،جیلوں میں قید، مظاہرین کے خلاف فائرنگ،پیلٹ گنز کے ساتھ بدترین تشدد کی مسلسل کاروائیوں سے کشمیری عوام کے خلاف بدترین صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔کشمیری بھارت کے انتہائی دباؤ کا شکار ہیں۔بھارت کشمیریوں کو ظالمانہ،غیر انسانی کاروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔

کشمیر کے حلقوں کے مطابق پاکستان کی کشمیر سے متعلق پالیسی اور حکمت عملی  متعدد خامیاں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمااتنے دباؤ میں ہیں کہ ترجمانی کا کام تو انہوں نے کسی حد تک کیا لیکن بصیرت کے ساتھ رہنمائی کا فرض  ادا نہ ہو سکا۔ بالخصوص گزشتہ بیس سال میں، پاکستان کی طرف سے کنٹرول لائین پر باڑ لگانے پر رضامندی اورآزاد کشمیر میں کشمیری مجاہدین کے کیمپ بندکرنے کی طرح کے مختلف اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال بھارت کے حق میں کرنے کے اقدامات کئے گئے۔لیکن دو ملکوں کے اس ”تعاون“ کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے شدید احتجاجی مظاہروں نے بھارت کی تمام تر طاقت کو ناکام کر رکھا ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق ادارے کی رپورٹ اور امریکی صدر کے بیان کی صورت دنیا میں ایک حل طلب سنگین مسئلے کے طور پرنمایاں ہو رہا ہے۔

 دیکھا جائے تو یہ بھارت کی ناکامی ہے کہ وہ ہر طرح کے حربے استعمال کرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر کسی بھی طور حل کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے اس بات کا احساس کیا جانا اہم ہے کہ زمینی صورتحال میں کمزور ترین پوزیشن اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر کچھ حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔  سنیئر بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے نام کے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بیان کیا گیا ہے  کہ ”میں اپنی ز ندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں کہ جس نے ہم نہتے کشمیریوں کیلئے آواز اٹھائی ہے۔“ 

یہ بیان پاکستان میں حکومتی،سرکاری حلقوں کی طرف سے خوب مشتہر کیا گیا۔حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے۔ گیلانی صاحب سے منسوب اس بیان سے اس حقیقت کا ایک بار پھر اعادہ ہوا ہے کہ ان کے چند قریبی رشتہ دار ان کے مختلف نوعیت کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔سینئر حریت رہنما کے نام سے، تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرنا اور  پاکستان کے وزیر اعظم کی مدح سرائی کرنا، کسی   نادان دوست کی کارکردگی  معلوم ہوتی ہے۔