نئے برطانوی وزیراعظم کی 22 رکنی نئی کابینہ
- جمعرات 25 / جولائی / 2019
- 4820
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر دو وزرائے اعظم کے استعفوں کے بعد بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہوئے نئی کابینہ تشکیل دی ہے۔
برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد سے ملک سیاسی بحران کا شکار ہے۔ حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کسی معاہدے کے تحت یورپی یونین سے علیحدگی کی خواہاں ہے تاہم سابق وزیراعظم تھریسامے اس مقصد میں ناکام رہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچنے پر کہا کہ وہ پارلیمنٹ اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں گے۔ پچپن سالہ بورس جانسن کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر 'اگر مگر' نہیں ہوگا اور 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے بات کریں گے۔
بورس جانسن کے پاس یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنے کے لیے 99 دن ہیں۔ تاہم یورپی یونین کی جانب سے با رہا کہا جاچکا ہے کہ وہ معاہدے میں ترمیم نہیں کریں گے۔ دوسری جانب یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے بورس جانس کو ایک خط لکھا جس میں کہا ہے کہ وہ مستقبل کے حوالے سے بات چیت کے لیے 'طویل تعاون' چاہتے ہیں۔
بورس جانسن نے عہدہ سنبھالنے سے قبل ملکہ الزبتھ سے ملاقات کی جس کے بعد 22 رکنی کابینہ بھی تشکیل دے دی ہے۔ نئے برطانوی وزیراعظم کی 22 رکنی کابینہ میں 6 نئے اور 16 پرانے وزیروں کو شامل کیا گیا ہے۔ کابینہ میں شامل نئے وزرا میں روبرٹ جینرک، روبرٹ بک لینڈ، الوک شرما، بین ویلس، الیسٹر جیک اور جیمس کلیوری شامل ہیں۔
بورس جونسن کی کابینہ میں 49 سالہ پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے، اس سے قبل اُن کے پاس وزارت داخلہ کا قلمدان تھا۔ کابینہ میں پریتی پٹیل کو وزارت داخلہ، ڈومنک راب کو وزارت خارجہ اور بین ویلس کو وزارت دفاع کا قلمدان ملا ہے۔ سابق وزیر دفاع گیون ولیم سن کی کابینہ میں واپسی ہوئی ہے اور اُنہیں وزارت تعلیم کا عہدہ دیا گیا ہے جب کہ لز ٹرسٹ کو وزیر تجارت اور اسٹیفن بارکلے کو بریگزٹ کا وزیر برقرار رکھا گیا ہے۔