دورہ پاکستان کی دعوت ملی تو قبول کریں گے: افغان طالبان

  • جمعرات 25 / جولائی / 2019
  • 4840

افغان طالبان نے کہا ہے کہ اگر انہیں دورہ پاکستان کی دعوت ملی تو وہ اسے قبول کریں گے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

بی بی سی کی اردو سروس کے مطابق قطر کے دارالحکومت اور افغان امن عمل میں توجہ کا مرکز بننے والے شہر دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا  ہے کہ رسمی طور پر پاکستان کی طرف سے دعوت موصول ہونے پر وہاں جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم خطے کے ہمسایہ ممالک کا دورہ کرتے ہیں اور پاکستان بھی ہمارا ہمسایہ اور ایک اسلامی ملک ہے۔

رپورٹ کے مطابق دوران گفتگو طالبان ترجمان سے پوچھے گئے سوال کہ ’طالبان پر یہ الزامات ہیں کہ وہ پاکستان کی پراکسی ہیں اور کیا اس دورے سے ان پر مزید الزامات نہیں لگیں گے؟ تو اس پر سہیل شاہین نے جواب دیا کہ جن لوگوں کے پاس طالبان کے خلاف جھگڑے کے لیے کوئی دوسری دلیل نہیں وہ ایسے الزامات لگائیں کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے اور مستقبل میں بھی یہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلامی اور قومی مفاد ہیں، جس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنے دیتے تاہم جہاں تک دیگر ممالک سے رابطے کی بات ہے تو ہم ایسا چاہتے بھی ہیں اور ہمارے رابطے بھی ہیں۔ افغان امن عمل سے متعلق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتوں سے مذاکرات میں کامیابی کے بعد افغان حکومت سمیت دیگر افغان فریقین سے بھی ملاقات کی جائے گی۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کو ہم نے 2 مراحل اندرونی اور بیرونی میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں جاری مذاکرات اب اختتام کو پہنچنے والے ہیں، اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تو پھر دوسرے مرحلے کی جانب بڑھیں گے۔ جس میں تمام افغان فریقین سے بات ہوگی اور افغان حکومت اس عمل میں ایک فریق کے طور پر شامل ہوسکتی ہے۔

قیدیوں کے تبادلے سے متعلق سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ ہو اور ان کے گرفتار ساتھی رہا ہوں۔ ماضی میں بھی یہ عمل ہوا ہے اور اب بھی ہم کوشش کرتے ہیں۔ تاہم اگر اس معاملے میں کوئی اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو یہ اچھا ہے۔

افغانستان میں جاری 17 سال سے زائد عرصے سے جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کوششوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اس کے طالبان سے کئی مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں۔  مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ طالبان انہیں کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں اور وہ براہ راست امریکا سے مذاکرات کا مطالبہ کرتے آئے تھے۔