عمران خان کا دورہ امریکہ
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- جمعہ 26 / جولائی / 2019
- 7330
بچپن میں ایک کہانی سنی تھی۔ کہ ایک دفعہ ایک باپ بیٹا کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں کھلونوں کی ایک دُکان آئی۔ کھلونےدیکھ کے بچےکا دل مچلا۔ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اسے کھلونا لے دے۔ باپ نے کھلونے کی قیمت پوچھی تو دُکاندار نے کہا دس روپے۔ بچے کےباپ نے کہانہیں کھلونا بہت مہنگا ہے وہ نہیں خرید سکتا۔
بچہ بیچاراہ چُپ ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ دونوں پھرکہیں اکٹھے جا رہے تھے۔ کہ کھلونوں کی اسی دُکان کے سامنے سے گُزر ہوا ۔ کھلونے دیکھ کر بچے کا دل پھر مچلا۔ اس نے باپ سے کھلونا خریدنے کی فرمائش کی۔ باپ نےدُکاندار سے کھلونے کی قیمت پوچھی۔ جو بیس روپے تھی۔ باپ نے وہ کھلونا خرید لیا۔ بچے کو بڑی حیرت ہوئی کہ باپ نے کچھ عرصہ پہلےدس روپے کا کھلونا یہ کہہ کے نہیں خریدا کہ وہ مہنگا تھا۔ لیکن آج بیس روپے کا خرید لیا۔ اس نے اپنے باپ سے یہ بات پوچھ لی۔ باپ نے کہا کہ پہلےاس کے حالات اور تھے۔ وہ دس روپے کا کھلونا نہیں خرید سکتا تھا۔ لیکن آج حالات اور ہیں۔ آج وہ دس تو کیا بیس روپے کا کھلونا بھی خرید سکتا ہے۔
قارئین کرام ! یہ واقعہ سچا ہے یا جھوٹا یہ تو مجھے علم نہیں لیکن اس سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ انسان کے فیصلےاس کے حالات کےتابع ہوتے ہیں۔ اور بہت سے فیصلے آ پ کی مرضی سے نہیں حالات کے جبر سے ہوتے ہیں۔ یہ باتیں اور واقعہ مجھے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے تناظر میں یاد آیا۔ وزیر اعظم آج کل تین روزہ دورے پہ امریکہ میں ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بپا ہے۔ سابقہ حکمرانوں کی تصاویر لگا لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے ہم نے امریکہ فتح کر لیا ہو۔ دُنیاہماری تابع ہوچُکی ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ ہم بنیادی طور پہ ایک جذباتی اور سطحی سوچ رکھنے والی قوم ہیں۔ جسے پسند کریں اسے آسمان پہ لے جاتے ہیں۔ اور جسے ناپسند کریں وہ جتنا بھی اچھا کام کرے ہم اُسے سراہنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
پہلے تو ہماری لڑائی اس بات پہ تھی ۔ کہ استقبال اچھا نہیں ہوا۔ وزیر اعظم کے حامی دور دور کی کوڑی لا کے اس کا دفاع کررہے تھے۔ جبکہ مخالفین اس کی بنیاد پہ طعن و تشنیع کر رہے تھے۔ پھر اس کے بعد وزیرا عظم صاحب نے واشنگٹن میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ یہاں بھی ہم یہی ثابت کرنے کی کوشش میں رہے کہ جیسے ہم نے چاند پہ قدم رکھ دیا ہو۔ جلسے میں شامل ہونے والے افرادکی تعداد کے بارے میں بھی بحث چل رہی ہے۔ کوئی تیس ہزار کہہ رہا ہے تو کوئی نو ہزار۔ سٹیڈیم کی اپنی گنتی کے مطابق نو ہزار سے ساڑھے نو ہزار لوگوں نے جلسے میں شرکت کی۔ لیکن قطع نظر درست تعداد کےیہ ایک بڑا اجتماع تھا۔ اور اس کا کریڈٹ بہرحال پی ٹی آئی کوجاتا ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا جلسہ کیا۔ لیکن اس میں تقریر کرنے والے وزیر اعظم اپنی گفتگو سے مولا جٹ زیادہ اور ایک سٹیٹس مین کم لگ رہے تھے۔ اُن کی باتیں کسی انتخابی جلسے کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اور بہت سی باتیں ایسی تھیں جن سے اجتناب کیا جانا چاہیئے تھا۔ تقریر کو پی ٹی آئی کے سنجیدہ لوگوں نے بھی پسند نہیں کیا۔
دورے کا کلائمیکس وزیر اعظم کی صدر ٹرمپ سے ملاقات تھی۔ عمران خان جب ملاقات کے لئے آئے تو پُر اعتماد تھے۔ اور ان کی باڈی لینگویج وہی تھی جو کرکٹ کے زمانے میں بھی ہوتی تھی۔ وہ کسی بھی لمحے نروس نہیں لگ رہے تھے۔ یہ ایک بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ملاقات میں باتیں کتنی نتیجہ خیز ہوئیں۔ ملاقات کے بعد جس بات کا سب سے زیادہ شور ہوا وہ کشمیر کے بارے میں صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول یہ بات مودی نے شروع کی ٍاور صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ ثالثی کریں گے؟ جس پہ صدر ٹرمپ نے پوچھا کس معاملے میں ؟ تو مودی نے کہا کشمیر کے معاملے میں۔ یعنی یہ بات مودی اور ٹرمپ کے درمیان عمران خان سے ملاقات سے پہلے ہو چُکی ہے۔ لیکن ہم ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں کہ عمران خان نے یہ کر دیا اور وہ کر دیا۔
دوسری طرف بھارتی وزارت خارجہ نے اس کی تردید کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ کہ وزیر اعظم مودی صاحب نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ اب بھارتی وزارت خارجہ جھوٹ بول رہی ہے یا ڈونلڈ ٹرمپ۔ یہ بات چند روز تک سامنے آ جائے گی۔ ان سطور کے تحریر کئے جانے تک ابھی امریکی وزارت خارجہ نے صدر ٹرمپ کےمؤقف کی صداقت پہ اصرار نہیں کیا۔ دوسری بات صدر ٹرمپ نے خود کہی۔ کہ پہلے پاکستان بات نہیں مان رہا تھا لیکن اب اچھا بچہ بن گیا ہے اور باتیں مان رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی نمائندہ نے بھی بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے۔ کہ بہت اچھا بجٹ ہے۔ امریکی صدر اچھا بچہ بننے کا سرٹیفکیٹ دے رہا ہے اور آئی ایم ایف بھی۔ ان دونوں باتوں کا کیا مطلب ہے؟
اب ان باتوں کا تقابل 2015میں اوباما اور نواز شریف کی ملاقات سے کریں۔ لوگوں کو نواز شریف کی پرچی یاد ہے لیکن ایشوز یاد نہیں۔ یہ وہ وقت تھا۔ جب پاکستان میں داخلی دہشت گردی عروج پہ تھی۔ ضرب عضب شروع ہوئے چند مہینے ہوئے تھے۔ پاکستان بمبئی حملوں کےاثرات سے نہیں نکلا تھا۔ سیاسی اور عسکری قیادت میں اختلافات تھے۔ تقریباً روزانہ ڈرون حملے ہوتے تھے۔ امریکہ کو پاکستان کی افغانستان میں اس طرح ضرورت نہیں تھی۔ جیسی آج ہے۔ امریکہ ڈو مورڈو مور کامطالبہ کرتا تھا۔ اور جو یہ مطالبہ پورا کر سکتے تھے۔ جن کا امریکی اور افغان پالیسی پہ ہمیشہ کنٹرول رہا ہے۔ وہ نواز شریف حکومت سے شاکی تھے۔ سوچئے ان حالات کاشکار کوئی بھی وزیر اعظم کتنی بڑی بریک تھرو کرسکتا تھا۔ اس کے باوجود نواز شریف نےدو گھنٹے مذاکرات کئے۔ پاکستان کا مقدمہ بھرپور طریقے سے پیش کیا۔ ڈرون حملوں کی بندش پہ زرو دیا۔ کشمیرکامسئلہ اُٹھایا۔ باہمی تجارت پہ بات کی۔ مشترکہ اعلامئے کی تمام تفصیلات گوگل پر موجود ہیں۔ اور سرچ کر کے پڑھی جا سکتی ہیں۔
صدر اوبامانے کشمیر کےمعاملے میں کہا کہ پہلے ان لوگوں کو روکو جو بھارت میں جا کےدہشت گردی کرتے ہیں۔ اور جوافغان علاقے میں کاروائیاں کرتے ہیں۔ کیا یہ روکنا نواز شریف کےبس میں تھا؟ یہی بات بعد میں ڈان لیکس کی بنیاد بنی اور پھر جو ہوا وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ فوج مکمل طور پہ عمران خان کے ساتھ ہے۔ اپوزیشن ساری جیل میں ہے۔ جن لوگوں کو گرفتار کرنے اور روکنے کا مطالبہ امریکہ کرتا تھا ،وہ گرفتار کئےجا چکے ہیں۔ امریکہ کےمطالبات مانے جا چُکے ہیں۔ اور ان پہ عمل ہورہاہے۔ اب طالبان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی اشد ضرورت ہے اورصدر ٹرمپ نے کُھل کراس کااظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ پہلے پاکستان امریکہ کی بات نہیں مانتا تھا۔ لیکن اب مان رہا ہے۔ یعنی پاکستان امریکی ایجنڈے کے مطابق چل رہا ہے۔ یہ اس بات پہ مہر ہے کہ پاکستان اپنا بیانیہ امریکی خواہشات کے تابع کر چُکاہے۔ لیکن ہمارے وزیراعظم صاحب برابری کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات کا کھلونا پاکستان کو پہلے دس روپے کا نہیں مل رہا تھا لیکن آج بیس روپے میں مل گیا ہے۔ کیونکہ حالات بدل گئے ہیں۔ مبارک ہو۔ اُمید اور دُعا ہےکہ اب کی بار پاکستان کے حالات بدلیں۔ اور ہمارا ملک بھی باعزت قوموں میں شمار ہو ۔ لیکن خدشہ یہ ہے کہ اگر طالبان نے پاکستان کی بات من و عن ماننے سے انکار کر دیا تو؟