ادارے عمران خان کا ساتھ دے کر عوام سے ٹکر نہ لیں: مریم نواز
- جمعہ 26 / جولائی / 2019
- 8820
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ’محترم اداروں‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’نالائق اعظم‘ کی ناکامیوں کو بوجھ اٹھا کر عوام سے ٹکر نہ لیں۔
کوئٹہ میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ’آپ عوام کے ادارے ہیں، آپ عمران خان کے ادارے نہیں ہیں، جس نے پاکستان کو تاریخی ناکامی سے دوچار کیا، آپ وزیراعظم کے نمائندہ نہیں ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ ہمارے نمائندہ ہیں، آپ سے پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے عوام خوش نہیں، اس لیے عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر آگے بڑھیں اور عوام کا ساتھ دیں‘۔
واضح رہے کہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے جمعرات کو سیاہ منایا جبکہ چاروں صوبائی دارالحکومت سمیت پورے ملک میں احتجاجی جلسے ہوئے جن سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین و رہنماؤں نے خطاب کیا۔
کوئٹہ میں مریما نواز نے کہا کہ ریاست ماں ہوتی ہے اور ادارے ماں باپ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے میری اداروں سے گزارش ہے کہ ’نالائق اور نااہل شخص‘ کی ناکامیوں کا بوجھ نہ اٹھائیں، عمران خان کے لیے عوام سے ٹکر نہ لیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ ’عوام کو اداروں کے بالمقابل کھڑا نہ کریں اور آگے بڑھ کر عوام کو سینے سے لگائیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آگے بڑھ کر عوام کے مسائل حل کریں اور ووٹ کو عزت دیں اور ان کی نمائندہ حکومتوں کو آنے دیں کیونکہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک عوام کی نمائندہ حکومت برسر اقتدار نہیں آئے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں محترم اداروں کی عزت کرنا چاہتی ہوں‘۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی دعوت پر لاہور میں یوم سیاہ کی ریلی چھوڑ کر کوئٹہ آئی ہوں۔ مسلم لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ 2 دسمبر 2017 کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے خان شریف عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کے موقع پر وعدہ کیا تھا کہ آئین کی پاسداری کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور آج وہ اس وعدے کی پاداش میں ’بے گناہ‘ ہونے کے باوجود جیل کاٹنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو آپ کے ووٹ کو پاؤں کے نیچے روندا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ’الیکشن سے قبل ہی پارٹی رہنماؤں کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کہا گیا اور جس نے خودداری کا مظاہرہ اورپارٹی نہیں چھوڑی ان پرنیب کے مقدمات دائر کردیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آئی ایم ایف کے پاس پاکستان کو گروی رکھ دیا جائے اور ایک سال میں 16 ہزار ارب روپے قرضہ لیا جائے توکیا یہ پاکستان کا ہر دن یوم سیاہ نہیں۔
دوسری طرف کراچی کے باغ جناح میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ '2018 کے الیکشن میں ہم پر سلیکٹڈ حکومت مسلط کردی گئی جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، 25 جولائی پاکستان کی تاریخ کا بدترین دن ہے اور آج ہم اس حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہے ہیں۔'
انہوں نے کہا کہ 'مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے لیکن آج پاکستان کی جمہوریت خطرے میں ہے۔ اس وقت سیاستدان ہی نہیں سیاست بھی نشانے پر ہے، تاجر ہی نہیں تجارت، بیروزگاری کے بجائے بیروزگار نشانے پر ہیں لیکن جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہم سب مل کر لڑیں گے۔'
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ملک کے مفاد اور جمہوریت کے استحکام کے لیے سب ایک ہیں لیکن کوئی ایک جماعت اس ملک کے مسائل حل نہیں کرسکتی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف اسلام آباد مارچ کا اعلان کردیا۔ پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج وہ سیاہ دن ہے جس پر قوم کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور ہم نے اس حکومت کو کل بھی تسلیم نہیں کیا اور آج بھی تسلیم نہیں کرتے۔ دو روز بعد کوئٹہ میں بھی ملین مارچ ہوگا۔
عمران خان کے دورہ امریکا کے بارے میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان سفارتی آداب سے بھی ناواقف ہیں جبکہ بیرون ملک جاکر پاکستان کا مقدمہ ہار جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے سوال کرنے سے صحافی کو منع کیا گیا۔ عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی ہے جبکہ شکیل آفریدی پاکستان کا مجرم ہے، اس لیے کس طرح بے گناہ اور مجرم کا سودا ہوا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان نے اسامہ بن لادن کی نشاندہی کا بیان دے کر کونسا پاکستان کی خدمت کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے پاکستان کے معدنی ذخائر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ نہیں ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے علما اور مدارس پر پابندی ہے اور توہین رسالت کے 500 زیادہ مقدمات مسلمانوں کے خلاف درج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت اور اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چیئرمین سینٹ اور وزیر اعظم کو کوئی این آر او نہیں ملے گا۔
پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ موٹروے چوک پر ہوا جس سے مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے بھی خطاب کیا۔
پشاور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن قبال کا کہنا تھا کہ الیکشن سے قبل تحریک انصاف نے عوام کو سبز باغ دکھائے لیکن بعد میں ان کا خون نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، مہنگائی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ غریب انسان روٹی کھائے یا بچوں کو پڑھائے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور میں ریلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جھوٹ، فریب، الزامات پر مبنی طرز حکومت‘ زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ چیئرنگ کراس پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا قصور یہ ہےکہ انہوں نے ملک کے اندھیرے دور کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان، تاجر اور عوام آج ہمارے ساتھ کھڑے ہیں لیکن احتساب کے نام پر بدترین انتقام لیا جارہا ہے۔