شہباز شریف نے برطانوی اخبار کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا

  • جمعہ 26 / جولائی / 2019
  • 5830

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے برطانوی اخبار دی میل آن سنڈے، آن لائن نیوز ویب سائٹ میل آن لائن اور اس کے صحافی ڈیوڈ روز کو قانونی نوٹس بھجوادیا  ہے۔ اخبار نے  14 جولائی کو شہباز شریف کے خلاف مضمون شائع کیا تھا۔

برطانوی قانونی فرم کارٹر رک سولسٹرز کی طرف سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے اپنے خلاف خبر پر برطانوی خبررساں ادارے اور اس کے تحقیقاتی صحافی ڈیوڈ روز کے خلاف ’ہتک عزت‘ کی باضابطہ قانونی درخواست دائر کی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ڈیلی میل نے ایک خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) کی جانب سے 2005 کے زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے فراہم کیے گئے فنڈز میں خورد برد کی تھی۔

اس اسٹوری میں وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور دیگر کے حوالہ جات کو نقل کیا گیا تھا۔  تاہم ان تمام افراد میں سے زلزلےکے وقت کوئی سرکاری عہدے پر نہیں تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس خبر کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ (وزیراعظم) عمران خان کے کہنے پر شائع کی گئی تھی۔  ڈی ایف آئی ڈی کی جانب سے بھی اس خبرکو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ادارے کا ’مضبوط نظام برطانوی ٹیکس دہندگان کو دھوکے سے تحفظ دیتا ہے‘۔

شہباز شریف کے نوٹس میں کہا گیا کہ ’شہباز شریف سے متعلق خبر مکمل من گھڑت ہے اور یہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں کہ پاکستان میں 2005 کے زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے ڈیفڈ کی امداد کے طور پر برطانوی ٹیکس دہندگان کی رقم کو غلط استعمال کیا‘۔

قانونی نوٹس میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’میں ایسے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں‘۔ نوٹس میں مزید کہا گیا کہ اگر میرے (شہباز شریف) کے خلاف لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت ہوتا تو انہیں گرفتار کرکے فرد جرم عائد کرنا چاہیے تھا ۔

شہباز شریف کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’خبر کی اشاعت سے پہلے کسی بھی موقع پر میرا موقف جاننے کی زحمت نہیں کی گئی، ورنہ میں بتادیتا کہ 2005 میں زلزلے کے جس وقت کا ذکر کیا گیا ہے،  اس وقت میں پاکستان میں نہیں بلکہ برطانیہ میں جلا وطن  تھا‘۔

نوٹس میں اس دعویٰ کو دہرایا گیا کہ یہ اسٹوری سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف وزیر اعظم اور ان کے ساتھی شہزاد اکبر کی جانب سے شروع کی گئی ’سیاسی  مہم‘ کا حصہ تھی۔