کرپشن کیا ہے ۔ 4
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعہ 26 / جولائی / 2019
- 6270
گزشتہ کئی روز تک حجرہ نشینوں اور دشت نوردوں سے رابطے کے بعد کرپشن کے ضمن میں کچھ معلومات جمع کی ہیں جو میں قارئینِ کاروان کی خدمت میں بصد عجز و انکسار پیش کرتا ہوں:
سوال یہ تھا کہ اہلِ نظر کے نزدیک کسی معاشرے میں کرپشن کیسے جنم لیتی ہے ؟ اس کا سرچشمہ کہاں ہے اور اس سرچشمے کی شناخت کیسے ممکن ہے؟ کتاب اللہ کے عارفوں کا کہنا ہے کہ کُرپشن ، لاقانونیت کی ناجائز اولاد ہے اور لاقانونیت اخلاقی فحاشی ہے ۔ اور وہ معاشرہ جو آئین اور قانون کا پابند نہیں ہوتا ،ایک طرح کا قحبہ خانہ ہے جہاں آئین اور قانون کی آبرو ریزی کی جاتی ہے جبکہ قانون شکنی ظُلم ہے ۔ اس مضمون کو سورہ ء بقر میں سبت والوں کے قصّے میں بڑی صراحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ کتاب اللہ میں لکھا ہے :
" اور تم اُن لوگوں کو خوب جانتے ہو جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے میں) حد سے تجاوز کر گئے تھے تو ہم نے اُن سے کہا کہ ذلیل و خوار بندر بن جاؤ۔ " آیت۶۵
سبت والوں کا قصّہ یہ ہے کہ یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کے دن مچھلیاں نہیں پکڑیں گے ۔ نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک اقتصادی نوعیت کا قانون تھا کیونکہ ماہی گیری حصولِ رزق کا وسیلہ ہے مگر جب یہ کام قانون کے مطابق نہ کیا گیا اور قانون شکنی سرزد ہوئی تو سزا کا فیصلہ ہوا اور قانون شکنوں کو سزا کے طور پر بندر بنادیا گیا ۔ یہاں بندر بنا دینے کا استعارہ قانون شکنی کی سزا کے طور پر برتا گیا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اُن قانون شکنوں کی دُمیں نکل آئی ہوں اور بدن پر لباس کی جگہ بال اُگ آئے ہوں گے ، بلکہ اس کے بر عکس اصل نُکتہ یہ ہے کہ قانون شکنی انسان کو انسانی منصب سے محروم کر کے جانور کی سطح پر لے آتی ہے ۔ یعنی بندر جیسا نقال بنا دیتی ہے جو قانون کا پابند نہیں ہوتا ۔ چنانچہ جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا قانون کے ضمن میں دوہرے معیارات رائج کرتے ہیں وہ قانونی مخلوق نہیں رہتے بلکہ لاقانونیت کے بندر بن جاتے ہیں ۔
قانون اور آئین وہ احکامات ہیں ،جو اللہ کی اطاعت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور حاکمِ وقت کی اطاعت پر مبنی ہیں ۔ اِن احکامات کا نفاذ تخلیقِ آدم و حوا کے ساتھ شروع ہوا ۔ چنانچہ آدم سے کہا گیا : "اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو ، اور جہاں سے چاہو ، بے روک ٹوک کھاؤ پیو لیکن اِس درخت کے پاس نہ جانا ، نہیں تو ظالموں میں ( داخل) ہو جاؤ گے " ۔ البقر ۔ ۳۵
وہ درخت کون سا تھا جس کے پاس جانے سے منع کیا گیا تھا ، وہ شر کا درخت ہے ، بدی کا ہے ، یا ظُلم کا ہے ؟ اس کی کئی تعبیریں ممکن ہیں مگر اصل بات قانون کی ہے کہ پابندی عائد کر دی گئی ۔ ایک قانون وضع کردیا اور اُس قانون کی خلاف ورزی کی خلاف ورزی کی اتنی سخت سزا دی گئی کہ اُنہیں اپنے اصل وطن سے جلا وطن کردیا گیا ۔ یہ انسان کی پہلی ہجرت اور جلا وطنی تھی جو اولادِ آدم کے نصیب میں لکھ دی گئی ۔ سائیں منیر نیای نے اس ہجرت پر اپنا موقف اس طرح رقم کیا ہے :
جُرم آدم نے کیا اور نسلِ آدم کو سزا
کاٹتا وہ ہوں جو میں نے آج تک بویا نہیں
اور نسلِ آدم کا المیہ یہ رہا ہے کہ نہ تو اُس نے قانون کو قانون ہی سمجھا اور نہ ہی خُدا کے سامنے اُس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کبھی شرم تک محسوس کی ۔ یعنی قانون ساز ی کے لیے اُس نے قانون ساز ادارے بھی بنا لیے ، قانونی دستاویزات کے ڈھیر لگا دیے مگر اُسے قانون نافذ کرنا اور قانون پر چلنا نہیں آیا ۔ شاید انسان من حیث القوم اتنا کُند ذہن اور کم فہم ہے کہ نہ تو بات کی تہ تک پہنچتا ہے اور نہ اپنی تفہیم کا ترجمہ عمل میں کرسکتا ہے ۔اور یہ کُند ذہنی اور کم مایگی شرفِ انسانیت کی نفی ہے ۔ ہم شاید یہ سوچنا بھول جاتے ہیں کہ جب ہم قانون کی پابندی عملی طور پر نہیں کرسکتے تو قانون قانون کی رٹ کیوں لگاتے ہیں ۔ خُدا کے قانون میں یہ بھی سنگین جرم ہے کہ جس بات پر کسی کا عمل نہیں اُسے زبان پر بھی لایاجائے ۔ یعنی اگر تم سچ نہیں بول سکتے تو سچ کے لفظ کو اپنی جھوٹی زبان سے آلودہ نہ کرو ۔ چانچہ قانون کہتا ہے : " لما تقولون ما لا تفعلون" ۔ مگر اس قانون کی خلاف ورزی میں ہم اُنہی باتوں کی جُگالی کرتے چلے جاتے ہیں ، جن پر ہمارا تصرف نہیں ہوتا ۔
اگر ہم اپنی حالتِ زار کا جائزہ لیں تو ہم پر یہ حقیقت افشا ہوگی کہ ہم شرعی اصطلاح میں نصف مسلمان ہیں اور اُس نصف مسلمان کی متعدد تعبیریں ہیں ۔ادبی تاریخ میں رقم ہے کہ ایک بار کسی مقدمے میں مرزا غالب انگریز میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوئے تو میجسٹریٹ نے پوچھا کہ کیا آپ مسلمان ہیں تو غالب نے جواب دیا کہ ہوں تو مسلمان مگر آدھا ۔ میجسٹریٹ نے پوچھا کہ وہ کیسے تو غالب نے کہا کہ وہ شراب یتے ہیں مگر سؤر کا گوشت نہیں کھاتے ۔ اسی طرح شرعی قاعدے سے صفائی نصف ایمان ہے اور ہماری بستیوں ، شہروں ، قصبوں اور گلیوں بازاروں میں پڑے کوڑے کے ڈھیر ثابت کرتے ہیں کہ ہم بھی نصف مسلمان ہیں ۔
پاکستان کی تاریخ میں ایسے ایسے سیاسی رہنما اور صاحبِ اقتدار بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی قومی خدمات کے عوض تھوڑی سی کرپشن کے جائز ہونے کا اعلان کیا تھا ۔
میں ذاتی طور پر کسی پر کرپشن کا الزام نہیں دھرتا ، کسی کو دوش نہیں دیتا ، کوئی بہتان نہیں تراشتا مگر یہ میڈیا مجھے چین سے جینے نہیں دیتا ۔ میں کچھ کہوں تو فوراً مجھے کان سے پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ " تو بھی " ۔ اور اِس تو بھی کو شیکسپئر کی زبان میں " بروٹس ، یُو ٹُو ۔ کہتے ہیں ۔ لیکن میں بروٹس نہیں ہوں ۔ میں تو پاکستان کی گلیوں کا روڑا کوڑا ہوں اور ہم عوام ملا جلا کر پاکستانی جمہوریت کا روڑا کُوڑا ہی تو ہیں اور جو جس جگہ پر ہے وہی اُس کا ٹھکانہ ہے ۔ میں کروڑوں ڈالروں کا وہ مقروض ہوں جس کے حصّے میں کبھی آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض کا کوئی ایک ڈالر تک نہیں آیا ۔
آپ چاہیں تو بالکل بھی یقین نہ کریں مگر یہ سطور لکھتے ہوئے میں انتہائی اذیت اور کرب سے گزر رہا ہوں کیونکہ ہمیں بطور پاکستانی " نہ خُدا ہی ملا نہ وصال صنم " کے مصداق نہ تو خوشحال پاکستان ہی ملا اور نہ ہی اسلام ہی نافذ ہو پایا ۔ ہمارا سارا اثاثہ آٹھ لاکھ مسجدیں ، ہزاروں مدرسے اور کروڑوں مذہبی کارکن ہے جو مذہب کو بیان تو کرتے ہیں مگر مذہب کا عملی نمونہ بن کر نہیں دکھا سکتے ۔ اس ستر سال کی تبلیغی کارگزاری کا حاصل یہ ہے کہ ہم ہر روز کم سن بچیوں اور بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کی وارداتوں پر ماتم کرتے ہیں ، پولیس کی نا اہلی کے ہاتھوں دکھ سہتے ہیں ، بیڈ گورننس کے گندے پانی میں غوطے کھاتے ہیں اور صبح و شام اپنی مصیبتوں اور مشکلوں پر ماتم کرتے ہیں ۔ کیا ایسا ہوتا ہے ملکِ خداداد ؟ میرے پاس تو اس صورتِ حال پر آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں ۔ اللہ اللہ خیر سلّہ ۔