وزیر اعظم کا دورہ امریکہ: سانوں کادیاں خوشیاں چڑھایا ں نئیں!

عمران خان کا دورہ امریکا ایک مرتبہ پھر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی دھڑے بندی میں بلدتی ہوئی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ عمومی طور پر جب سے پاکستان معرض جود میں آیا ہے یہاں کے حکمرانوں کے امریکی دورے کو کسی بھی دوسرے ملک کے دورے سے اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

 حالیہ دورہ جس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت، ادارے اور امریکہ ایک پیج پر ہیں، اس حوالے سے ہمیں نئی بات لگتی ہے۔ 1960کی دہائی میں پاکستان کی ریاست نے چین کا متبادل سہرا لینے کی پالیسی بنائی تھی مگر وہ بھی ہمیں امریکہ اور مغربی اقوام کے چنگل سے چھڑا نہ سکی۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ امریکہ سب سے بڑی طاقت ہے اس لیے نئے گلوبل نظام میں رہتے ہوئے اس کی بالا دستی سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دریا میں رہتے ہوئے مگر مچھ سے دشمنی نہیں لی جا سکتی۔

 موجودہ دورہ ماضی کے دوروں سے ایک حوالے سے مختلف ہے جس کی بنیادی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی مشترکہ قدریں ہیں۔یہ عوام کے ایسے حصے کوجو جمود کے عہد میں ایک رجعت،خوف اور مایوسی میں مبتلا ہو کر انتہا پسندی کے اسیر بنے ہوئے ہیں اور ریاست کے دھڑوں کی حمایت سے اقتدار پر قابض ہوئے ہیں، بنیادی طورپر ٹرمپ اور خان کا اقتدار میں آنا پاکستان اور امریکہ میں شدت پکڑے ہوئے بحران کی وجہ سے ہے۔ اگر پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہاں پر معیشت زوال پذیر ہے۔صنعتی سر گرمیاں بند ہو چکی ہیں۔ لوگ بے روز گار ہو رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے چند مہینوں میں ہونے والی مہنگائی کی مثال پاکستانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ہے۔

 سابق حکومتوں نے بھی قرضے لے کر ملکی انتظامی اور مالیاتی معاملات کو چلانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں قرضوں اور سود میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس طرح ہم عالمی مالیاتی اداروں کی گرفت میں جکڑے گئے ہیں۔یاد رہے کہ دو طرح کی  زینجیریں ہوتی ہیں۔ ایک قیدیوں کو پہنائی جاتی ہے اور دوسری ذہنی مریضوں کو جس سے وہ ہاتھ منہ نہیں ہلا سکتے۔  ریاست کو ہم قرضوں سے چلا تو رہے ہیں مگر شائد ان کو درست طریقہ سے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں پر صنعت کاری اور سرمایہ کی تحریک کا کام سر انجام نہیں ہو رہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ گر رہی ہے پاکستانی روپیہ امریکہ کے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے۔

 خیال تھا کہ دورہ امریکہ کے دوران پاکستان کی اقتصادی مشکلات کے بارے میں بات ہو گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔ بلکہ ٹرمپ اور عمران خان کی گفتگو کا موضوع ایک دوسرے کی شخصیت کے سحر کا تذکرہ ہی رہی۔ صرف افغانستان کے حوالے سے بات ہوئی اور صدر ٹرمپ نے کشمیر کے معاملے میں اپنی ثالثی کی پیش کش کی۔ ترجمان اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مورگی آرٹگس نے پریس کانفر نس میں کہا  ہے کہ ہم اب سوچ رہے ہیں کہ پہلی ملاقات پر پیش رفت کریں۔ وزیر اعظم پاکستان نے وعدہ کیا کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر زور دیں گے، ہم سمجھتے ہیں یہ ایک اہم قدم ہے کیونکہ ہم افغانستان میں امن کیلئے پر عزم ہیں۔ترجمان نے کہا اس کے علاوہ بہت سے معاملات پر نا صرف امریکی صدر بلکہ سیکرٹری سے ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ وقت ہے کہ ان ملاقاتوں میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے۔

 دوران بریفنگ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آئندہ 48گھنٹوں میں امریکی یر غمالیوں سے متعلق اچھی خبر ملے گی مگر اب 48گھنٹے گزر چکے ہیں اس پر مورگن نے کہا کہ اس انتظامیہ کا امریکی یر غمالیوں کی واپسی پر ایک مضبوط ریکارڈ ہے۔ ہم انسانی زندگی کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور ہم بیرون ملک یر غمال امریکی شہروں کی محفوظ واپسی کیلئے ہر ممکن وسائل کا استعمال کریں گے۔  ساتھ یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے یہ کہا گیا ہم ان کی واپسی کیلئے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں افغان عمل سمیت بہت سے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کی قیادت پاکستانی آرمی چیف اور اس کے ساتھ وفد نے کی جس کا اہتمام پینٹگا گون اور وزارت خارجہ میں کیا گیا۔ اس ضمن میں کیا پالیسیاں طے کی گئیں اس کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔

  پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری حکومت کو اتنے ہی وعدے کرنے چاہیں جن کا وہ بعد میں بوجھ برداشت کر سکے ا۔س کے علاوہ وزیر اعظم نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ وطن پہنچ کر افغان طالبان سے ملاقات کر کے انہیں امن مذاکرات کیلئے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔  آج طالبان کے ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی کی صورت میں ہی اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ رابطہ کریں گے۔

سوال یہ ابھرتا ہے کہ پاکستان وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے ہمیں کیا حاصل ہوا ہے؟ بظاہر ہمیں  یہ بہت بڑی کامیابی نظر آتی ہے کہ امریکہ نے کشمیر کے معاملے میں ثالثی کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ نریندر مودی نے اس ضمن میں صدر ٹرمپ سے درخواست کی تھی جس پر بھارتی اپوزیشن بہت سیخ پا ہوئی ہے۔ بھارت نے مسئلہ کشمیر کو بھی دہشت گردی سے جوڑ کر پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے بے انتہا سیاسی، سفارتی سرمایہ کاری کی تھی لیکن اب صدر ٹرمپ نے نہ صرف کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں بنیادی مسئلہ کے طور پر تسلیم کیا۔بلکہ بھارتی وزیر اعظم کو بھی بیک فٹ پر لے گئے۔  بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی جاری ہے اور بھارت کے وزیر خارجہ اپوزیشن جماعتوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعت کانگرس اور کمیونسٹ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود ایوان میں آکر وضاحت کریں۔ اب مودی کیلئے امریکی صدر کو سیدھا سیدھا جھوٹا قرار دینا بہت بڑی سیاسی آزمائش ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات انتہائی گرمجوشی کے بعد تجارتی تنازعہ کا شکار ہیں۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل ٹرمپ نے بھارت کو دی ہوئی تجارتی رعائتوں کو واپس لے لیا تھا جس کی بنیادی وجہ بھارت کی روس سے مزائل سسٹم خریدنے کا معاہدہ تھا۔ اس وقت امریکہ کو بھارت کے ساتھ 60ارب ڈالر کا سالانہ تجارتی خسارہ ہے اور امریکی سمجھتے ہیں کہ ہم زیادہ دیر تک بھارت کے ساتھ خسارے کا لین دین نہیں چلا سکتے۔ یاد رہے مودی کو ستمبر میں واشنگٹن دورے پر جانا ہے۔

قوم پرستی کی لہر کا شکار بھارتی میڈیا تو یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مودی نے ٹرمپ کے ساتھ ایسی درخواست کی ہو گی۔ بھارتی میڈیا بھول رہا

ہے کہ اس سال فروری میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کے بعد انتہائی کشیدہ صورتحال میں بہتری صدر ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ہی آئی تھی جو انہوں نے کم جونگ ان سے انتہائی اہم ملاقات کی مصروفیات سے وقت نکال کر دیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کا دوسرا حاصل امریکی کمپنیوں کا پاکستان کی طرف رخ کرنا ہے۔ امریکی صدر نے ملاقات میں دو طرفہ تجارت کی بات کی۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے زراعت اور توانائی کے شعبہ میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔  امریکی کمپنیوں کے آنے سے تجارتی سر گرمیاں بڑھیں گی لیکن اس بات کا بھی خطرہ ہے تجارتی خسارہ نہ بڑھ جائے۔ پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے تجارتی رعائتوں کی ضرورت ہے یاد رہے کہ ابھی کولیشن سپورٹ فنڈ کو دوبارہ جاری کرنے کا اعلان نہیں ہوا جو کہ تقریبا 8بلین ڈالر امریکہ کے پاس موجود ہے۔ یاد رہے جنوری2018میں ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر نے ہماری امداد بند کر دی تھی۔

وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے کئی حوالوں سے اہم پیش رفت ہوئی۔ 7اور8جولائی میں انٹر افغان مذاکرات ہوئے افغان حکومت کے عہدیدار اور طالبان ایک میز پر اکٹھے ہوئے پاکستان نے اندرون ملک چند عسکری تنظیموں پر کریک ڈاؤن کیا، کچھ گرفتاریاں ہوئیں، اثاثے ضبط کیے گئے۔  مدارس کے نظام میں اصلاحات کا  آغاز کیا گیا۔ امریکی حکام نے کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے حوالے سے اپنی سمت سیدھی رکھتی ہے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور شراکت کا راستہ کھل سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ملاقات میں پاکستانی حکمرانوں کے کردار  پہ بھی بد اعتمادی کا اظہار کیا کہ انہوں نے کبھی اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ جبکہ عمران خان نے کہا ہم امریکی حکومت کو کوئی ایسا شکوہ کا موقع نہیں دیں گے۔

 امریکہ کے ڈومور کی بات صرف افغان عمل تک محدود نہیں بلکہ امریکہ، افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارتی راستے کھلوانا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس سے ہی امن کیلئے سنجیدگی ظاہر ہوگی۔امریکی حکام نے سی پیک پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور ان صوبوں پر سرمایہ کاری اور قرضوں کو پاکستان کی خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے  تنبیہ کی۔  اس کے ساتھ بڑا اور فوری ایشو جی پانچ ٹیکنالوجی کا ہے۔اور وہ چینی کمپنی ہوائے سے جی5 ٹیکنالوجی لینے سے  منع کرتے رہیں گے۔ا

نسٹٹیوٹ آف پیس امریکہ میں خطاب  کرتے ہوئے وزیر اعظم  نے  ماضی کی حکومتوں کی افغان جہاد میں شرکت کے بارے میں اظہار کیا اور کہا کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کے خلاف تھے لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔اگر پاک افواج کو انتہا پسندوں کے قلع قمع کیلئے قبائلی علاقوں میں نہ بھجوایا جاتا تو شائد پختونخواہ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں پر قابض ہو جاتے اور جس سے ہمیں عراق اور شام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ مشکلات میں گھری پاکستانی معیشت کیلئے اس دورے سے فوری امداد حاصل نہیں ہو سکی۔ امریکہ کے کاروباری صدر نے یہ پیش کش کی اگر پاکستان دلی طور پر تعاون کرتا ہے تو سیکیورٹی امداد کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔

 فوری فائدہ اگر ممکن ہوا تو ستمبر میں ایف  اے ٹی  ایف  کا جائزہ اجلاس پاکستان کے اقدامات پر مثبت رپوٹ دے گا۔ لیکن اس کے بارے میں کوئی بیان نہیں آیا۔

اگر ٹرمپ کی بے صبری کا جائزہ لیا جائے تو اس نے ملاقات میں کہا تھا کہ ہم افغانستان صرف دس دن میں اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں

 لیکن وہ ایک کروڑ لوگوں کا قتل عام نہیں چاہتے۔ افغا ن عمل میں سب سے بڑا مسئلہ شراکت اقتدار کا ہے۔ افغان حکومت میں متعدد  گروہ اور جنگجو سردار شامل ہیں اگر طالبان کی واپسی ممکن ہوتی ہے اس صورتحال میں کئی گروپ ناراض ہوسکتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کو اس کی پرواہ نہیں۔

 کامیاب دورے کے بعد عمران کے اعتماد میں اضافہ ہو اہے اور وہ اپنے مطلوبہ سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھا سکتے ہیں۔ جس میں  اپوزیشن کو احتساب کے ذریعے سیاسی طور پر بے عمل کرنا ہے۔تحریک انصاف اور اس کے حامی کامیاب دورے کا جشن منا کر ہے ہیں لیکن پتہ نئیں اینا نوں کیڑیاں خوشیاں چڑھیا ں نئیں۔