پاکستانیوں کیلئے کینیڈا کا اسٹوڈنٹ ویزا تین ہفتوں میں مل سکے گا
- اتوار 28 / جولائی / 2019
- 5400
کینیڈا کی حکومت نے اپنے اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم پروگرام میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت اب پاکستانی طلبا 3 ہفتے سے کم مدت میں اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کرسکیں گے۔
کینیڈین امیگریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے حال ہی میں پاکستان کو ایس ڈی اسی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس کینیڈا کی حکومت نے بھارت، چین، فلپائن اور ویتنام کے طلبا کے لیے اس پروگرام کا آغاز کیا تھا۔
محکمہ امیگریشن کے بیان کے مطابق اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم اب ان درخواست گزاروں کے لیے دستیاب ہے جو پاکستان میں رہ رہے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان ممالک سے زیادہ تر ایس ڈی ایس درخواست گزار اس پروگرام کا حصہ ہیں اور انہیں 3 ہفتوں کے اندر ویزا دیا جارہا ہے۔
مذکورہ بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’ایس ڈی ایس درخواست گزار طلبا کے لیے ضروری ہے کہ وہ افسران کو زیادہ معلومات فراہم کریں، جس میں ملاقات کی زبان میں انگریزی یا فرانسیسی شامل کریں اور اضافی معلومات فراہم کریں جو ان کی تعلیم کے اخراجات کو ظاہر کرسکے۔ اس اضافی معلومات سے افسران زیادہ موثر طریقے سے درخواست پرغور کرسکتے ہیں‘۔
بیان کے مطابق ایس ڈی ایس کی توسیع کینیڈین حکومت کی مختلف ممالک سے طلبا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے مقصد کا حصہ ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ زیادہ تر بین الاقوامی طلبا جو کینیڈا میں ایک پروگرام کے تحت گریجویٹ ہوتے ہیں ان میں سے اکثر پوسٹ گریجویٹ ورک پرمٹ کے اہل ہوجاتے ہیں۔ کنیڈین تعلیم اور کینیڈا میں کام کے تجربے کے ساتھ سابق بین الاقوامی طلبا ایکسپریس اینٹری، پرووینشیل نومینی پروگرام یا اٹلانٹک امیگریشن پائلٹ کے ذریعے مستقبل رہائش کے لیے درخواست دینے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔
2018 میں تقریباً 54 ہزار سابق طلبا نے مستقل رہائش حاصل کی تھی۔ دوسری جانب کینیڈا کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے کینیڈا میں تعلیم کے خواہش مند طلبا کو سہولت ملے گی۔
انہوں نے کینیڈین حکومت کے جذبہ خیرسگالی کو سراہا اور امیگریشن وزیر احمد حسین اور کینیڈین پارلیمنٹ کے اراکین کی جانب سے اپنے عزم کو پورا کرنے کے لیے کی گئی خصوصی کوششوں کی تعریف کی۔
ہائی کمشنر نے کینیڈین حکام کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ ایس ڈی ایس پروگرام میں پاکستانی طلبا کو بھی شامل کریں کیونکہ ’تعلیمی لحاظ سے پاکستانی طلبا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں‘۔