ریفرنسز کا سامنا کرنے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے جج ریفرنس سماعت سے الگ ہوجائیں: بار کونسل

  • اتوار 28 / جولائی / 2019
  • 4670

وکلا تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے ایسے اراکین جن کے خلاف مختلف ریفرنس زیر التوا ہیں انہیں کونسل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان بار کونسل ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن  اور اسلام آباد بار کونسل  کے کنوینشن میں ایک قرار داد  کے ذریعے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایس جے سی اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف زیر التوا ریفرنس کا فیصلہ قانون کے مطابق کرے۔ یہ فیصلے منظور نظر افراد کے انتخاب کی بنیاد پرنہ کیے جائیں۔

قرار داد میں سپریم جوڈیشل کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف دائر صدارتی ریفرنسز کو خارج کرے۔  قرار داد میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے 3 ججز کے خلاف ریفرنسز کئی ماہ سے زیر التوا ہیں۔ ان ججوں کو صدارتی ریفرنسز پر کارروائی کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔

پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین سید امجد شاہ نے وکلا نے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایس جے سی کے 3 اراکین کے خلاف ریفرنسز دائر ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ پر زور دیا کہ وہ ان ججوں کو ایس جے سی کی رکنیت سے علیحدہ کردیں جن کے خلاف ریفرنسز زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ  طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں، انہیں آئینی عہدوں سے ہٹانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ایس سی بی اے کے صدر امان اللہ کنرانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، بلوچستان سے سپریم کورٹ کے واحد جج ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کے عہدے سے ہٹایا جانا محرومیوں کا شکار صوبے کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔

اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں نائب چیئرمین ہارون رشید، جاوید سلیم شورش، وکلا رہنماؤں علی احمد کرد اور دیگر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

اس دوران حکومت کے حامی وکلا نے بھی اسلام آباد میں علیحدہ اجلاس منعقد کیا اور ریفرنسز کی حمایت کی۔ انصاف لائرز فورم  کے صدر اور حکمران جماعت کے قانونی معاملات کے نگران شاہد نسیم گوندل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں۔

انہوں نے وکلا تنظیموں، پی بی سی اور ایس سی بی اے، کو صدارتی ریفرنس کے خلاف بات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ رہنما ججوں کا احتساب نہیں چاہتے، اس لیے وہ اس عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔