سابق وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی ضمانت پر رہا ہوگئے

  • اتوار 28 / جولائی / 2019
  • 5500

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنا کا حکم دے دیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر مہران بلوچ نے ایک روز قبل عرفان صدیقی کا 14 روزہ عدالتی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ تاہم انہوں نے اتوار کو ان کی ضمانت منظور کرلی اور انہیں 30 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔

عرفان صدیقی کی جانب سے عبدالخالق تھند عدالت میں پیش ہوئے تھے اور ضمانت کی درخواست جمع کروائی تھی۔ گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی اور سینئر کالم نگار عرفان صدیقی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔

عرفان صدیقی کو کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں دو روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں یہ کہا گیا تھا کہ عرفان صدیقی کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے بلایا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے چنانچہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

عرفان صدیقی کو عدالت میں پیشی سے ایک روز قبل اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں گزشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر میڈیا کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

عرفان صدیقی پر دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو کرمنل پروسیجر ایکٹ کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ مذکورہ قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے جائیدادوں کے تمام مالکان کو ہدایت جاری کر رکھی ہے کہ مکان کرایے پر دینے سے قبل مقامی پولیس اسٹیشن کو آگاہ کیا جائے۔