امریکہ طالبان معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات ہوں گے

  • اتوار 28 / جولائی / 2019
  • 4990

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتہ طے پا جانے کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

زلمے خلیل زاد کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے وزیر برائے امن عبدالسلام رحیمی نے عندیہ دیا تھا کہ افغان حکومت کا 15 رکنی وفد آئندہ دو ہفتوں کے دوران یورپ میں طالبان سے مذاکرات کرے گا۔

ایک ویڈیو بیان میں افغان وزیر نے کہا تھا کہ"افغان حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس حوالے سے ہم تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ امکان ہے کہ آئندہ دو ہفتوں میں یورپ کے کسی مقام پر یہ ملاقات ہو سکتی ہے۔" افغان حکام کی جانب سے اس ضمن میں مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

افغان حکومت کے وزیر کے بیان کے بعد زلمے خلیل زاد نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ طے ہونے کے بعد بین الافغان مذاکرات ہوں گے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات جاری ہیں، جس کے اب تک سات ادوار ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کی یہ خواہش ہے کہ طالبان افغانستان میں دیرپا قیام امن کے لیے براہ راست افغان حکومت سے مذاکرات کریں، تاہم طالبان اس سے انکار کرتے آئے ہیں۔ طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ افغان حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی ہے، لہذٰا اس سے مذاکرات کرنا بے سود ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے زلمے خلیل زاد کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد ہی مذاکرات کا کوئی نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے دیرینہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ کابل انتظامیہ سے بطور حکومت مذاکرات نہیں کریں گے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور اگلے ہفتے قطر میں شروع ہو گا۔ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ یکم ستمبر سے قبل طے پا جائے۔ سفارتی ذرائع سے اے ایف پی کو ملنے والی معلومات کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات 7 اگست سے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں متوقع ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے لیے فریقین کو طالبان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کا انتظار ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران کہا تھا کہ وہ طالبان سے ملاقات کرکے انہیں افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے آمادہ کریں گے۔ طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ پاکستان کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں کوئی قباحت نہیں ہے۔