ایران جوہری معاہدہ بچانے کے لئے بات چیت کا آغاز
- سوموار 29 / جولائی / 2019
- 4630
خلیج میں تیل بردار بحری جہازوں کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے بات چیت شروع ہوئی ہے۔ اس بارے میں ایرانی موقف ہے کہ یہ مثبت ہے تاہم ابھی بہت سے معاملات طے نہیں ہوئے ہیں۔
ویانا میں ہونے والی اس ملاقات میں ایران کی جانب سے شرکت کرنے والے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار عباس اراخچی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی طرف سے ایران کا تیل بردار جہاز پکڑنا 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی تھا۔ ایران نے برطانیہ کی اس تجویز کو بھی 'اشتعال انگیز' کہا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو یورپی مشن کی نگرانی میں وہاں سے گزارا جائے۔‘
میٹنگ کے بعد عباس اراخچی کا کہنا تھا کہ 'بات چیت تعمیری ماحول میں ہوئی۔ گفتگو اچھی رہی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ہر مسئلے کو حل کر لیا ہے، تاہم میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ بہت سی یقین دہانیاں دی گئی ہیں۔' ایران کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ گزشتہ برس اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ نے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔
گزشتہ ہفتوں میں ایران اور برطانیہ نے ایک دوسرے کا ایک، ایک تیل بردار بحری ٹینکر قبضے میں لے لیا تھا۔ اور اس کے باعث کشیدگی نے ایک بار پھر 2015 میں ہونے والی نیوکلئیر ڈیل کو بچانے کے حوالے سے دباؤ بڑھا تھا۔
ایران نے رواں ماہ یورینیم افزودہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ایران کا کہنا تھا کہ یورینیم افزودگی کا مقصد ریکٹر کے لیے ایندھن پیدا کرنا ہے تاہم امریکہ اور یورپ کا دعویٰ ہے کہ ایسا جوہری پروگرام میں اضافہ کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔
ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جانے والی اس بات چیت کا مقصد حالیہ کشیدگی کو کم کرنا اور 2015 کے جوہری معاہدے کو مکمل ختم ہونے سے بچانا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز پر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے حکام نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ خلیج میں ہونے والے واقعات پر 'سخت پریشان' ہیں۔ ان کا کہنا تھا 'یہ وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور وہ راستہ اختیار کرنے کا ہے جس پر چل پر کشیدگی میں اضافے کو روکا جا سکے اور بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا جا سکے۔'
ملاقات میں شامل چین کے نمائندے فو کونگ کا کہنا تھا کہ 'تمام فریقین نے 2015 کے معاہدے کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے یک طرفہ طور پابندیاں عائد کرنے کی شدید مخالفت کی ہے۔'
رواں ماہ ایران اور برطانیہ کے مابین کشیدگی اس وقت بڑھی جب برطانوی بحریہ نے گریس ون نامی ایرانی تیل بردار ٹینکر کو جبرالٹر میں اپنے قبضے میں لیا۔ برطانیہ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایرانی ٹینکر یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل شام لے جا رہا تھا۔ تاہم ایرانی حکام نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
اس واقعے کے کئی روز بعد ایران کے ایک برطانوی تیل بردار جہاز سٹینا ایمپرو کو اپنی تحویل میں یہ کہتے ہوئے لے لیا تھا کہ جہاز نے 'بین الاقوامی بحری اصولوں کی خلاف ورزی' کی ہے۔
اتوار کے روز برطانیہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے دوسرا بحری جنگی جہاز بھیجا ہے۔