نئی اسمبلی کا پہلا سال: کارکردگی مایوس کن رہی

  • سوموار 29 / جولائی / 2019
  • 4550

2018 کے انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی قومی اسمبلی میں پہلے پارلیمانی سال مکمل ہونے سے قبل  آخری سیشن آج شروع ہورہا ہے۔ تاہم قانون سازی، ایوان کی کارروائی اور وزیراعظم کی حاضری کے حوالے سے کارکردگی مایوس کن رہی۔

12 اگست کو قومی اسمبلی کی تشکیل کو ایک سال مکمل ہوگا۔ تاہم 50 سے زائد سرکاری اور نجی بل اب بھی قائمہ کمیٹیوں میں زیر التوا ہیں۔ ایوان کے اصول و ضوابط کے مطابق ایک سال کے عرصے میں 130 دن قومی اسمبلی کے اجلاس ہونا لازمی ہیں تاہم موجودہ اسمبلی اپنے پہلے پارلیمانی سال میں اب تک 120 دن کے اجلاس ہی کرپائی ہے۔ جس میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے 3 روز بھی شامل ہیں۔

اس مدت میں قومی اسمبلی کے حقیقی اجلاس 88 روز ہوئے کیوں کہ 120 دن میں سے 2 ورکنگ ڈیز کے درمیان آنے والی چھٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ اجلاس کی کارروائی مجموعی طور پر 263 گھنٹے اور 29 منٹ جاری رہی جس میں بجٹ سیشن کے 90 گھنٹے بھی شامل ہیں۔

متعدد اجلاس کارورائی کے دوران ہونے والی بدنظمی کا شکار رہے۔ کچھ مواقع پر اراکین آپے سے باہر ہوگئے اور ہاؤس کو آرڈر میں رکھنے میں ناکامی پر اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ خاص طور پر گرفتار اراکین اسمبلی  کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج کے باعث اسپیکر کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

اس وقت 6 اراکین اسمبلی پولیس، نیب و دیگر قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی زیر حراست ہیں جن میں سابق صدر آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اللہ، شاہد خاقان عباسی اور وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 2 آزاد اراکین علی وزیر اور محسن داوڑ بھی شامل ہیں۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ضمانت ملنے سے قبل قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف بھی کئی اجلاسوں میں پروڈکشن آرڈز جاری ہونے پر شریک ہوئے۔

ایک سال کے عرصے میں قومی اسمبلی کے 12 سیشنز میں 10 بل منظور کیے گئے جس میں 10ویں آئینی ترمیم، فنانس ایکٹ 2019 اور 2 ضمنی فنانس بل بھی شامل ہیں جبکہ 2 بل ایسے بھی شامل ہیں جس کا مقصد نئی قانون سازی کے بعد رسمی طور پر پرانے قوانین کو منسوخ کرنا تھا۔

اس کے علاوہ 26 ویں آئینی ترمیم بھی منظور ہوئی جس مں قبائلی اضلاع سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا۔ یہ بل 13 مئی کو محسن داوڑ نے پیش کیا تھا جو سینیٹ کی منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق قائمہ کمیٹیوں میں زیرِ التوا 56 بلز میں سے حکومت کے 15 جبکہ نجی اراکین نے 41 بلز شامل ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں وزیراعظم کی طویل غیر حاضری پر بھی اعتراض کیا جاتا رہا۔ عہدے پر منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ وہ باقاعدگی سے نہ صرف اجلاس میں شرکت کریں گے بلکہ برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کی طرز پر اراکین کے سوالوں کے جواب بھی دیں گے۔

تاہم حاضری کے ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے محض 12 مرتبہ یعنی 14 فیصد اجلاس میں شرکت کی ہے۔