افغانستان میں سیاسی دفتر پر حملہ، 20 افراد ہلاک ہوگئے
- سوموار 29 / جولائی / 2019
- 4790
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں انتخابات میں نائب صدر کے امیدوار اور خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے دفتر پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ گرین ٹرینڈ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ’حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہؤا‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے میں متعدد حملہ آور بھی ہلاک ہوئے۔
نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا نشانہ انتخابات میں نائب صدر کے امیدوار اور خفیہ ادارے کے سابق سربراہ امراللہ صالح تھے جنہیں عمارت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دیگر 85 شہریوں کو بھی اندر سے باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
حملے کی فوری طور پر کسی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم طالبان باغی اور داعش کابل میں سرگرم ہیں اور وہ ماضی میں بھی حملے کرچکے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز افغانستان میں صدارتی مہم کا آغاز ہوا تھا جبکہ ووٹنگ کا عمل ستمبر کے آخر میں ہوگا۔
حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا امراللہ صالح حملے میں محفوظ ہیں۔ کابل پولیس کے سربراہ کے ترجمان فردوس فرامرز کا کہنا تھا کہ حملے کا آغاز گاڑی میں سوار خود کش دھماکے سے ہوا جس کے بعد حملہ آور عمارت میں گھس آئے اور سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پورے کابل میں سنی گئی۔
پاکستان نے امراللہ صالح کے دفتر پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے آئندہ انتخابات میں نائب صدر کے امیدوار امراللہ صالح کے دفتر پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہے، پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے، ملک میں مکمل امن کے لیے ہم افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔