افغان اور نیٹو فورسز کے حملوں میں زیادہ شہری ہلاک ہوئے
- منگل 30 / جولائی / 2019
- 4660
اقوام متحدہ کے مشن کا کہنا ہے کہ 2019 کے پہلے 6 ماہ میں طالبان اور دیگر مسلح تنظیموں سے زیادہ افغان اور نیٹو فورسز کے حملوں میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر شہریوں کی ہلاکت باغیوں کے خلاف افغان اور نیٹو فورسز کے آپریشنز میں ہوئی۔ ان میں فضائی حملے اور رات کے وقت مسلح تنظیموں کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائیاں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ باغی زیادہ تر شہری علاقوں کو چھپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز نے رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 413 اور عالمی فورسز نے 314 شہریوں کو ہلاک کیا۔ یہ کل تعداد 717 ہے۔ طالبان، داعش اور دیگر مسلح تنظیموں نے اس عرصے کے دوران 531 شہریوں کو ہلاک کیا۔
طالبان نے امریکہ سے 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے باوجود جنگ بندی کو مسترد کردیا ہے جبکہ داعش بھی سیکیورٹی فورسز سمیت افغانستان میں اہل تشیع برادری کو نشانہ بنارہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پر کابل حکومت، افغان فوج یا عالمی فورسز کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ شائع کرنے والے اقوام متحدہ کے معاون برائے افغانستان کے انسانی حقوق کے سربراہ رچرڈ بینیٹ کا کہنا تھا کہ 'تنازع پر ہر جانب سے الگ وضاحت ملے گی کیونکہ ہر کوئی اپنی فوجی حکمت عملی کو بہتر ثابت کرے گا'۔ ان کا کہنا تھا کہ عام افغانیوں کے لیے صورتحال کو عالمی انسانی حقوق کے قوانین پر عمل کرکے ہی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔