دوہری شہریت کے حامل پاکستان میں انتخاب جیتنے کے بعد غیر ملکی شہریت سے دستبردار ہوسکیں گے
- منگل 30 / جولائی / 2019
- 4780
دوہری شہریت کے حامل افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے بل کا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے جسے پارلیمنٹ میں جلد بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے روزنامہ ڈان اخبار سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ جو افراد انتخابات جیت جائیں گے انہیں حلف اٹھانے سے قبل اپنی غیر ملکی شہریت چھوڑنا پڑے گی۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کی اور اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں۔
اعظم سواتی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو متعدد بورڈ آف گورنرز میں نمائندگی دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اگر نسل نو امریکہ اور یورپ میں خدمات انجام دے سکتے ہیں تو ہم ان کی قابلیت سے کیوں نہ فائدہ اٹھائیں۔ دوہری شہریت رکھنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت جمعہ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا۔
آئینی ترمیم کے حوالے سے قانونی اقدامات کے لیے کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران کابینہ کے اراکین کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینا ملک کے مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم نے اجلاس میں متعلقہ وزارتوں سمیت الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے لیے تجاویز پیش کرنے کا کہا تھا۔
فیصلے کے اطلاق کے بعد آئین کے آرٹیکل 63 (سی) میں ترمیم کی ضرورت ہوگی، جس میں لکھا ہے کہ 'کوئی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کے لیے نا اہل ہوگا اگر وہ پاکستان کا شہری نہ رہے، یاکسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرے'۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کابینہ کے فیصلے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ای سی پی نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹر لسٹ میں اندراج کے عمل کا آغاز کیا تھا تاہم چند وجوہات کی بنا پر اسے روکنا پڑا۔ اب وزیر اعظم نے خود ای سی پی اور متعلقہ محکموں کو اوورسیز پاکستانیوں کی رجسٹریشن کے عمل کے فوری آغاز کی ہدایت دی ہے۔