برازیل کی جیل میں مخالف گروہوں میں تصادم، 57 قیدی ہلاک
- منگل 30 / جولائی / 2019
- 6400
برازیل کے صوبے پارا کی جیل میں قیدیوں کے دو متحارب گروہوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں کم از کم 57 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے 16 قیدیوں کے سر بھی تن سے جدا کر دیے گئے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق برازیل کی حکومت کو جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے باعث انہیں کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شمالی شہر التامیرا کی جیل میں حریف گروہوں کے درمیان جھگڑے کا آغاز پیر کی صبح سات بجے ہوا۔
ریاست پارا کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمانڈو کلاس اے نامی گینگ نے مخالف گروپ ریڈ کمانڈ گروپ کے سیل میں آگ لگا دی جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ قیدیوں نے دو گارڈز کو بھی یرغمال بنا لیا جنہیں بعدازاں چھوڑ دیا گیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ لگتا ہے، تاہم اس سے متعلق کوئی پیشگی اطلاعات نہیں تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام بدلہ لینے کی غرض سے کیا گیا۔
برازیل میں اس سے قبل بھی جیلوں میں پرتشدد واقعات رونما ہو تے رہے ہیں جو صدر جیر بولسینارو کی حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ رواں سال مئی میں بھی شمالی ریاست ایمیزونا کی ایک جیل میں بھی قیدیوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 55 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جبکہ 2017 میں بھی اسی جیل میں پھوٹنے والے فسادات کے نتیجے میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
برازیل کی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ وہ پارا حکام سے مل کر جیل میں فساد پھیلانے والے عناصر کو وفاق کے زیر انتظام جیلوں میں منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ برازیل کی جیلوں میں لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ قیدی ہیں اس لحاظ سے برازیل قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔ ان جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کی شکایات ہیں۔ جیلوں کی حالت زار بہتر بنانے اور قیدیوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے قیدیوں پر مشتمل مختلف تنظیمیں بھی سرگرم ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دستیاب معلومات کے مطابق برازیل کی جیلوں میں مختلف گینگ متحرک ہیں۔ یہ گینگ اسمگل شدہ موبائل فونز کے ذریعے باہر کی دنیا سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اور مفادات کے ٹکراؤ اپر یہ آپس میں لڑتے ہیں۔ جیلوں میں منشیات فروشی، قتل، بینک ڈکیتیوں سمیت متعدد وارداتوں میں ملوث مجرموں کو رکھا گیا ہے۔