چیئرمین سینیٹ عزت سے خود ہی استعفیٰ دے دیں: بلاول بھٹو زرداری
- بدھ 31 / جولائی / 2019
- 4620
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے اچھا ہے کہ وہ اپنی عزت بچائیں اور خود ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ ونہ کل ان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور ہوجائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ میں اپوزیشن ارکین کے لیے دیے گئے ظہرانے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے پاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ نمبرز موجود ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میری تجویز پہلے سے ہی تھی کہ چیئرمین سینیٹ اپنی عزت بچاتے ہوئے استعفیٰ دے دیں، ورنہ کل تو وہ جا ہی رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں نامزد چیئرمین سینیٹ میر حاصل بزنجو، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا، شیری رحمٰن، رضا ربانی، راجہ ظفر الحق، عثمان خان کاکڑ، اشوک کمار، کرشنا کماری، رحمٰن ملک، مشاہد اللہ خان، یوسف بادینی، بہرامند تنگی، راحیلہ مگسی، عائشہ رضا، نجمہ حمید، نذہت صادق اور رخسانہ زبیری سمیت 51 اراکین نے شرکت کی۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نامزد چیئرمین سینیٹ میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے کہ وہ اسی دن جیت گئے تھے جس دن انہیں چیئرمین سینیٹ نامزد کیا گیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری کے ظہرانے میں شرکت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے میر حاصل بزنجو نے دعویٰ کیا کہ انہیں سینیٹ میں 65 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے موجودہ چیئرمین سینیٹ کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ اپنا استعفیٰ خود ہی پیش کردیں۔ واضح رہے کہ یکم اگست کو ایوان بالا میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی جائے گی جس کے لیے صدر مملکت عارف علوی نے اجلاس طلب کیا ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور قرارداد کو کل ہونے والے اہم اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا ہے۔ سیکریٹری سینیٹ محمد انور نے کہا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے خلاف قرارداد کل ہی پیش ہوگی جبکہ اس پر ووٹنگ بھی کل ہی مکمل ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے حکومت کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ہارس ٹریڈنگ کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ نے کبھی ملک کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملہ پر حکومت ہارس ٹریڈنگ سے باز رہے۔ ملکی سیاست میں پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔