امریکہ نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندیاں عائد کردیں
- جمعرات 01 / اگست / 2019
- 5370
امریکہ نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندیان عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں سے جواد ظریف کے امریکہ اور دیگر ممالک میں اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور ان کے بیرون ملک سفر کرنے میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔
امریکہ کے سیکریٹری خزانہ اسٹیون مناچن کا کہنا تھا کہ ’جواد ظریف ایران کے سپریم لیڈر کا ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں اور وہ دنیا بھر میں ایرانی حکومت کے مرکزی ترجمان ہیں۔ امریکہ ایرانی حکومت کو واضح پیغام دیینا چاہتا ہے کہ اس کا حالیہ رویہ ناقابل قبول ہے‘۔
واضح رہے کہ جواد ظریف پر لگائی گئی پابندیاں وہی ہیں جو اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر لگائی گئی تھیں۔ تہران کو پیغام میں واشنگٹن نے 2015 کے جوہری معاہدے کے دیگر فریقین، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے 3 ایرانی سول نیوکلیئر منصوبوں کو مزید چھوٹ دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن کا کہنا تھا کہ ’چھوٹ صرف 90 روز کے لیے دی گئی ہے، ہم ان تمام جوہری اقدامات پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں، ان کی روزانہ اسکروٹنی کی جاتی ہے‘۔
جواد ظریف اس وقت ایران کے جوہری قوت کی صنعت پر دیگر ممالک سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ پر امن ہے۔ تاہم واشنگٹن اور خطے میں اس کے دیگر اتحادی جنمیں اسرائیل بھی شامل ہے، کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر حکام کا کہنا تھا کہ جواد ظریف کی کی انگریزی میں فراوانی، طنز و مزاح اور امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے ان کی سفارتی تصویر جھوٹی ہے۔’انہوں نے سنجیدہ ہونے کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے‘۔ حکام کا کہنا تھا صدر ٹرمپ نے جواد ظریف کو وزیر خارجہ کی بجائے پروپیگنڈا وزیر سمجھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔
جواد ظریف نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے واشنگٹن پر پر ایران کو عالمی سطح پر خاموش کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے مجھ پر صرف اس لئے پابندیاں عائد کرنے کیں کہ میں دنیا میں ایران کا مرکزی ترجمان ہوں۔ کیا یہ حقیقت اتنی درد ناک تھی؟‘۔
جواد ظریف نے کہا کہ ’میرا ایران سے باہرکوئی اثاثہ یا مفاد نہیں۔ اس سے مجھ پر یا میرے اہلخانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مجھے اپنے ایجنڈا کے لیے اتنا بڑا خطرہ سمجھنے کے لیے شکریہ‘۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے ان پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ ’جواد ظریف نے دکھا دیا کہ امریکا اعلیٰ سفارت کاروں سے خوفزدہ ہے‘۔
اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ واشنگٹن جواد ظریف کی عالمی سطح پر سفارتکار کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت کو بھی کم کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم وہ اب بھی نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرسکیں گے۔
گزشتہ ماہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ جواد ظریف کو ویزا جاری کیا جائے گا تاہم وہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز تک محدود رہیں گے۔
گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوبامہ اور 6 ممالک کی جانب سے کیے گئے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے تہران پر معاشی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ حکومت کے ناقدین نے جواد ظریف پر پابندیوں کے قانونی و سفارتی وجوہات پرسوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اس پابندی سے مذاکرات کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر رانڈ پول نے ٹویٹ کیا کہ ’اگر آپ سفارتکاروں پر پابندی عائد کریں گے تو آپ کو سفارتکاری کم ملے گی‘۔
انتظامیہ کے سینیئر حکام نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی مذاکرات چاہتا ہے مگر جواد ظریف کے ساتھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی سفارتکار جواد ظریف کو ہمارے رابطے کا مرکز نہیں سمجھتے‘۔