چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی

  • جمعرات 01 / اگست / 2019
  • 7010

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈی والا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں ناکام ہوگئی ہیں۔ اس طرح جس کے ساتھ دونوں اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کے لئے اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ اس پر  ایوان بالا میں رائے شماری ہوئی۔ پریزائڈنگ افسر بیرسٹر سیف نے ووٹنگ پر فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ قرارداد کے حق میں 50 ووٹ ڈالے گئے ا س طرح قرارداد اکثریتی 53 ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔ تحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں 45 ووٹ پڑے اور 5 ووٹ مسترد ہوئے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد حکومتی اراکین نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور صادق سنجرانی کے حق میں نعرے لگائے۔

اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے لیے قرارداد پیش کی۔ ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومتی تحریک عدم اعتماد کے حق میں 32 ووٹ ڈالے گئے جبکہ اس کی کامیابی کے لئے کم از کم 53 ووٹ درکار تھے۔ اس طح یہ قرارداد بھی مسترد ہوگئی۔

اپوزیشن نے ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے کے خلاف حکومتی تحریک میں حصہ نہیں لیا اور ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے تمام اراکین ایوان بالا سے واک آؤٹ کرگئے تھے۔ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد تحریک ناکام ہونے کے بعد سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

عدم اعتماد کی تحریکوں پر منعقد ہونے والے اجلاس کی صدارت اجلاس  پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر سیف نے کی۔ انہوں نے ہی عدم اعتماد کی تحاریک پر ووٹنگ کے بعد فیصلہ سنایا۔

اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر 64 اراکین نے حمایت کی تھی جس کے بعد تحریک عدم اعتماد پر خفیہ رائے شماری ہوئی۔

اجلاس کے دوران 100 سینیٹرز ایوان میں موجود تھے جنہوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا۔ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری تنویر ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ایوان میں نہیں آئے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کی طرف سے ووٹنگ کے عمل پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کے 2 سینیٹرز بھی ایوان میں نہیں آئے۔

ووٹنگ کے آغاز سے قبل پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر سیف نے تمام سینیٹرز کو ووٹنگ کے طریقہ کار اور ضابطہ اخلاق سے آگاہ کیا۔  حکومتی اراکین کی جانب سے نعمان وزیر جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جاوید عباسی کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا جس کے بعد ووٹنگ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔