مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرگئی
- جمعہ 02 / اگست / 2019
- 4780
نئے مالی سال کے پہلے ماہ میں مہنگائی کی شرح 5 سال 9 ماہ بعد دوبارہ 10 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اضافہ پیٹرولیم اور گیس کی قیمتیں بڑھنے سے ہؤا ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کا کہنا ہے کہ کنزیومر پرائز انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق رواں سال جولائی میں افراط زر کی شرح 10.34 فیصد رہی جو گزشتہ ماہ 8.9 فیصد تھی جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں 5.84 فیصد تھی۔ اس سے قبل افراط زر کی شرح دو ہندسوں میں نومبر 2013 میں 10.9 فیصد رہی تھی۔
گزشتہ چند ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مجموعی طور پر افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے مخصوص ٹیکس اقدامات کے اثرات بھی افراط زر کی شرح میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہؤا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے افراط زر کا ہدف 11 سے 13 فیصد رکھا ہے جو گزشتہ سال 7.3 فیصد رہا تھا۔ رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں ہی قیمتوں میں اضافہ سامنے آگیا تھا۔
سی پی آئی ملک بھر کے شہروں میں 480 اشیا کی قیمتوں کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ غذائی اجناس سے متعلق ملک میں ہونے والی مہنگائی سے متعلق اگر سالانہ اعداد وشمار دیکھیں جائیں تو اس میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ اعداد وشمار کے مطابق اس میں 1.5 فیصد کمی آئی۔ گزشتہ ماہ غذا کی قیمت میں 7.85 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کم مدت میں خراب ہونے والی اشیا میں 8.06 فیصد اضافہ ہوا۔
غذائی اجباس کے علاوہ دیگر اشیا میں مہنگائی 11.1 فیصد سالانہ اور 2.8 فیصد ماہانہ رہی۔ یہ اضافہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا۔