سینیٹ انتخاب میں آئی ایس آئی ملوث نہیں تھی: میجر جنرل آصف غفور

  • جمعہ 02 / اگست / 2019
  • 7330

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پرپیغام میں کہا ہے کہ ’قومی ادارے کے سربراہ کے بارے میں سینیٹر میر حاصل بزنجو کا بیان سراسر بے بنیاد ہے‘۔

اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیاسی مفادات کے لیے پورے جمہوری عمل کو بدنام کرنے کا رجحان جمہوریت کی خدمت نہیں ہے‘۔ خیال رہے کہ ایوانِ بالا میں اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد پر گزشتہ روز خفیہ رائے شماری ہوئی تھی۔

سینیٹ میں اپوزیشن کو 64 اراکین کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم خفیہ رائے شماری میں چیئرمین کے خلاف تحریک کو صرف پچاس ووٹ مل سکے تھے۔ اس طرح اپوزیشن کی یہ قرارداد منظور نہیں ہوسکی تھی۔

اجلاس کے بعد ایک صحافی نے سینیٹر حاصل بزنجو سے سوال کیا کہ ’رات عشائیے میں آپ نے کہا تھا کہ آپ کو 64 اراکین کی حمایت حاصل ہے تو خفیہ رائے شماری کی نتیجے میں کم ہونے والے 14 اراکین کون ہیں؟‘

جس کے جواب میں سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا تھا کہ ’یہ جنرل فیض کے لوگ ہیں۔ ان کو تو آپ جانتے ہیں نا،  جنرل فیض آئی ایس آئی کے چیف ہیں۔ اور یہ ان کے لوگ تھے'۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے دیگر جماعتوں نے نیشنل پارٹی پاکستان کے صدر اور بلوچستان کے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر حاصل بزنجو کو مشترکہ طور پر چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد کیا تھا۔ بعدازاں میر حاصل بزنجو نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آج کا دن پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا‘۔

اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چاہے حکومتی یا اپوزیشن کی بینچز ہوں، یہ ہر اس فرد کا نقصان ہے جو جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہارس ٹریڈنگ کا یہ اقدام جس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی، آپ کو اور ہمیں مساوی طور پر خوفزدہ رکھے گا‘۔

خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر 64 اراکین نے حمایت کی تھی جس کے بعد تحریک عدم اعتماد پر خفیہ رائے شماری کی گئی۔

اجلاس کے دوران 100 سینیٹرز ایوان میں موجود تھے جنہوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری تنویر ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ایوان میں حاضری یقینی نہ بناسکے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے ووٹنگ کے عمل پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کے 2 سینیٹرز بھی ایوان میں نہیں آئے تھے۔

قبل ازیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر حاصل خان بزنجو اس حوالے سے کہا تھا کہ ’میں اس ہی وقت جیت گیا تھا جب اپوزیشن نے مجھے نامزد کیا تھا۔۔