ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کو پاکستان و بھارت کی مرضی سے مشروط کردیا
- جمعہ 02 / اگست / 2019
- 6100
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اسی وقت مداخلت کرسکتے ہیں کب دونوں ملک اس پر تیار ہوں۔ اس کا فیصلہ دونوں ممالک کے سربراہان نے کرنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو ہفتے قبل میری وزیر اعظم نریندر مودی سےملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ کیا آپ مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے پوچھا کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے۔
تاہم بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹویٹر بیان میں میں کہا تھا کہ ’ہم نے پریس میں صدر ٹرمپ کا بیان دیکھا ہے کہ اگرمسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان درخواست کرتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں، اس طرح کی کوئی درخواست نریندر مودی نے امریکی صدر سے نہیں کی‘۔
جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک رپورٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھارت کی طرف سے ثالثی کی پیشکش مسترد کیے جانے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواباً پوچھا کہ ’کیا انہوں نے پیشکش قبول کی ہے یا نہیں؟‘ جب انہیں بتایا گیا کہ نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وزیر اعظم نریندر مودی پر منحصر ہے‘۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’میں نے عمران خان اور نریندر مودی سے ملاقات کی ہے، میرے خیال میں دونوں بہترین لوگ ہیں اور ایک ساتھ اچھے تعلقات قائم کر سکتے ہیں‘۔ تاہم اگر وہ چاہتے ہیں کہ کوئی مداخلت کرے، مدد کرے تو میں تیار ہوں، میں اس معاملے پر پاکستان اور بھارت سے بات کی ہے کہ یہ جنگ طویل عرصے سے جاری ہے۔
بھارت نے امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو ایک بار پھر مسترد کردیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ ایس جے شنکر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کو بتایا ہے کہ کشمیر کے متنازع معاملے پر کوئی بھی بات چیت صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگی۔ دونوں رہنماؤں کی بینکاک ایشین سیکیورٹی فورم میں سائیڈلائن ملاقات ہوئی۔
ایس جے شنکر نے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا کہ ’آج صبح امریکی ہم منصب سے واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ کشمیر پر کوئی بھی بات صرف پاکستان سے دوطرفہ طور پر ہوگی‘۔
انہوں نے کہا کہ مائیک پومپیو سے ملاقات میں علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم ملاقات کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ سے جاری مختصر بیان میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کشمیر سے متعلق کسی بات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر کئی بار بین الاقوامی مدد مانگی ہے تاہم بھارت ہر بار ایسی کسی مدد کو مسترد کرتا آیا ہے۔