پی ٹی ایم کے مظاہرے، رضاکارانہ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع

  • ہفتہ 03 / اگست / 2019
  • 5750

پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف جمعے کو شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مظاہرے کیے گئے جبکہ درجنوں افراد نے رضاکارانہ گرفتاری دی ہے۔

پی ٹی ایم کے کارکنوں نے شمالی وزیرستان کے میران شاہ، میر علی اور رزمک کے علاقوں میں مظاہرے کیے جس کے دوران شرکا نے ہاتھوں میں بینرز، پوسٹرز اور ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی تصاویر اٹھا کر حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ مظاہروں سے پی ٹی ایم کے مقامی رہنماؤں نے خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت تحریک کے گرفتار دیگر رہنماؤں و کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی قصبے وانا میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے بعد پی ٹی ایم کے کارکنوں نے 'جیل بھرو' تحریک کا اعلان کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد افراد نے رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیں۔  وانا میں پی ٹی ایم کے رہنما عبد الولی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر لگ بھگ 200 افراد نے رضاکارانہ گرفتاری دینے کی پیشکش کی، بعدازاں 15 سے 20 افراد نے گرفتار دی ہے۔

عبدالولی نے دعویٰ کیا کہ سیکڑوں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی اور انتظامیہ نے اُن نوجوانوں کو حراست میں لیا جو احتجاج میں شرکت کے لیے اعلانات کر رہے تھے۔ گرفتار کارکنان نے اعلان کیا کہ وہ تب تک جیل میں رہیں گے جب تک حکومت محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت پی ٹی ایم کے دیگر گرفتار کارکنوں کو رہا نہیں کرتی۔

پی ٹی ایم کے اہم رہنما عبداللہ ننگیال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مظاہروں کا مقصد ارکان قومی اسمبلی سمیت گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی ہے۔  انہوں نے کہا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت تمام کارکنوں کو جعلی مقدمات میں گرفتار کرکے انہیں دہشت گردوں کے ساتھ جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑ کمر میں سکیورٹی فورسز سے مبینہ جھڑپ کی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ حکام کے بقول پشون تحفظ تحریک کے کارکنوں نے ایک منظم منصوبے کے تحت سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا جبکہ پی ٹی ایم کے کارکن اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کو عوام میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہے اور حالیہ انتخابات میں قبائلی عوام نے اس تنظیم کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں کا مسئلہ عدالتوں میں زیر سماعت ہے، لہٰذا پی ٹی ایم کے کارکنوں کو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔

پی ٹی ایم کے کارکنان کہتے ہیں کہ خڑ کمر واقعے کے روز وہ سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف مقامی لوگوں کے پر امن احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے اور گرفتار ارکان قومی اسمبلی سمیت تمام کارکنان غیر مسلح تھے اور مبینہ جھڑپ میں مرنے اور زخمی ہونے والے تمام تحریک کے کارکن تھے۔

اس واقعہ کے فوری بعد ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں دیگر اہم ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا تھا۔