طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہی امریکی افواج کے انخلا کی بنیاد ہوگا: زلمے خلیل زاد

  • ہفتہ 03 / اگست / 2019
  • 4820

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں۔

دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچنے پر ایک ٹوئٹ میں زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ’ہم طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں۔ ایسا امن معاہدہ جس سے فوج کا انخلا ممکن ہو سکے’۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی مشروط ہے اور کوئی بھی انخلا مشروط ہوگا۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں، ہم بھی طالبان کے ساتھ اچھے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔' واضح رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد دو روزہ دورے پر یکم اگست کو پاکستان پہنچے تھے۔

اپنے دورے کے دوران زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کیں اور افغان امن عمل میں مثبت پیش رفت اور آئندہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔  انہوں نے امن کی حمایت میں پاکستان کے کردار کا شکریہ ادا کیا۔

امریکہ، افغانستان میں 17 سال سے زائد عرصے سے جاری  جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور کر چکا ہے ۔ ان مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ طالبان انہیں کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں اور وہ براہ

حال ہی میں امریکا کے دورے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ وہ وطن واپس پہنچ کر افغان طالبان سے ملاقات کرکے انہیں افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔