کشمیر نفسیاتی جنگ میں مبتلا
- تحریر نعیمہ احمد مہجور
- ہفتہ 03 / اگست / 2019
- 6120
’کشمیر میں مزید دس ہزار فوج کی تعیناتی۔ ایک سرکاری سرکولر‘
’تین ماہ کے لیے رسد کا انتظام اور گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر رکھنے کی ہدایات۔ دوسرا سرکاری سرکولر‘
’پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ممکنہ حملے کے بارے میں سراغ رساں ادارے کو ملی اطلاع۔ تیسرا سرکولر‘
’پندرہ اگست کو پنچائت گھروں پر بھارتی ترنگا لہرانے کے لیے مزید فوجی کمک‘ ایک اور آڈر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘
سرکاری احکامات سے متعلق خط و کتابت کا یہ سلسلہ کئی روز سے اخبارات اور سوشل میڈیا کے اہم موضوعات بنے ہیں جن کے نتیجے میں وادی کشمیر کی پوری آبادی خوف و ہراس میں مبتلا ہے اور یہ قیاس آرائیاں گشت کرنے لگی ہیں کہ حکومت بھارت جموں و کشمیر میں دفعہ 370 یا دفعہ 35 A کو ہٹا کر ریاست کی آئین ہند میں دی جانے والی خصوصی پوزیشن کو ہذف کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس پر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ریاست کے گورنر نے ان سرکاری احکامات پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے دوران اپنے منشور میں جموں و کشمیر کو خصوصی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 370 کو ہٹانے کا عہد کیا ہے مگر جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ ملاقات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کا انکشاف کیا ہے تب سے بھارت کے سیاسی حلقوں میں ایک عجیب سی کھلبلی مچی ہوئی ہے اور کشمیر کےاندر جیسے ایک نفسیاتی جنگ کا کھیل شروع ہوا ہے۔
ٹرمپ کے بیان سے جہاں ایک طرف بی جے پی کے اپنے ہندو ووٹروں میں سبکی ہوئی ہے وہیں دوسری طرف کشمیر میں جاری شورش کو دبانے کے لیے نئی نئی حکمت عملیوں کو اپنایا جا رہا ہے اور ٹرمپ کے انکشاف کی اہمیت کو زائل کرنے کے لیے کشمیر میں سرکولر جاری کرنا بھی اسی حکمت عملی کی ایک کڑی تصور کی جا رہی ہے۔ کیونکہ کچھ ہو یا نہ ہو، کچھ وقت کے لیے کشمیری عوام کو ٹرمپ کے بیان سے ایک موہوم سی امید پیدا ہوئی تھی مگر حکام نے نئے نئے حربے استعمال کرکے اندرونی خلفشار کی ایک نئی فضا کو جنم دیا ہے اور یہ حکمت عملی ٹرمپ سے توجہ ہٹانے میں کارگر بھی ثابت ہو رہی ہے۔
میڈیا کے اکثر اداروں نے ٹرمپ کے بیان کو نظرانداز کیا اور اس کو محض ایک عام سی خبر تک محدود رکھا حالانکہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم صرف اسی خبر پر تبصرے اور تجزیوں کی زینت بنے رہے جن میں لائن آف کنٹرول کے آرپار لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دے رہے تھے۔
ظاہر ہے کہ حکومت کی پہلی ساری توجہ میڈیا پر مرکوز رہی اور ساتھ ہی کشمیر میں جب سوشل میڈیا پر سرکولر کا سلسلہ جاری ہوا تو عوام میں ٹرمپ کے بجائے سرکولر سے پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال شروع ہوا۔ لوگوں نے گھبراہٹ میں اشیا خوردونوش کی خریدو فروخت شروع کی کیونکہ ایک سرکولر سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ کشمیر میں بدترین حالات پیدا ہونے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر میں اس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے ایسی نظیر شاید دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ جب سن نوے میں عسکری تحریک کا آغاز ہوا تھا اور تقریباً لاکھوں لوگ سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں میں شریک ہورہے تھے۔ تب بھی عوام میں اتنی گھبراہٹ یا بے چینی نہیں تھی جتنی آج جان بوجھ کر پیدا کی جارہی ہے۔
مودی کی سخت گیر پالیسیوں کے نتیجے میں اگرچہ لوگ پہلے ہی کافی سہمے اور گھبرائے ہوئے ہیں اور ہر پل انتظامیہ سے لے کر سکیورٹی اداروں میں کچھ نہ کچھ بدلاو محسوس کر رہے ہے البتہ بقول ایک دانشور ’ٹرمپ کے بیان کے بعد عوام کو سختی سے کچلنے کی پالیسیوں میں تیزی آنے لگی ہے۔ وہ چاہے مین سٹریم سیاست دانوں کو رشوت لینے، بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرنے، تحریک کے لیے پیسے کی لین دین یا ایل او سی تجارت کے دوران منشیات کی سمگلنگ کروانے وغیرہ کیسوں میں الجھانا ہو یا عوام کے ذہنوں پر دباؤ ڈالنا ہو حتیٰ کہ یہ بھی سنا گیا ہے بعض بد دیانت سیاست دانوں نے ان کیسوں سے بچنے کے لیے بی جے پی کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔‘
ادھر حریت کے بیشتر رہنما خاموش ہیں اور وادی میں بڑھتی ہوئی بے چینی پر تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)