ایل او سی پر بھارتی جارحیت: غور کے لئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب
- اتوار 04 / اگست / 2019
- 5460
وزیراعظم عمران خان نے بھارتی فوج کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک شہریوں کو کلسٹر بم کا نشانہ بنانے کے واقعات پر غور کرنے کے لئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ' وادی نیلم میں بھارت کی جانب سے کلسٹر بم حملے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے'۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے امور زیر غور آئیں گے۔
بھارت جنگ بندی کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل او سی کے نزدیک شہری آبادی کو کلسٹر بموں کا نشانہ بنارہا ہے۔ گزشتہ چند روز میں وادی نیلم میں کلسٹر بم کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے مختلف ٹوئٹس میں کہا کہ ' مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر پاکستان کی سیاسی قیادت کو یک زبان ہو کر اسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے'۔ انہوں نے کہا کہ ' یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ ملکی سلامتی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا ہے'۔
دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالی نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں مزید 7 شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ایک بیان میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیوتیرس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور کشمیر میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان اور پوری دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا نوٹس لے۔
آزاد کشمیر کی ریاستی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بھارتی فورسز کی شیلنگ کے نتیجے میں گزشتہ روز جاں بحق افراد کی تعداد 4 ہوگئی تھی جبکہ 30 جولائی کو زخمی ہونے والا ایک شخص بھی دوران علاج انتقال کرگیا تھا۔ ایس ڈی ایم اے کے مطابق بھارتی فورسز کی شیلنگ کے نتیجے میں 40 افراد زخمی ہوئے۔
گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ 30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب وادی نیلم پر بھارتی فورسز نے شیلنگ کے دوران کلسٹر بم کا استعمال کیا۔ اس واقعہ میں ایک 4 سالہ بچے سمیت 2 شہری شہید جبکہ 11 زخمی ہوگئے تھے، جن کی حالت تشویش ناک ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز نے کلسٹر بم کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جو جنیوا اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جنیوا کے ’کلسٹر ایمونیشن کنونشن‘ کے تحت عام شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ اس کے غیر مسلح افراد پر مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھارت کی جانب سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول پار کرکے کارروائی کرنے اور لاشیں تحویل میں لینے کے الزام کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے۔
دوسری طرف بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے کیرن سیکٹر میں پاک فوج کے ’بارڈر ایکشن ٹیم‘ آپریشن کو ناکام بنادیا ہے۔ تاہم آئی ایس پی آر اور دفتر خارجہ نے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کو مسترد کردیا ہےاور اس طرزعمل کی مذمت کی ہے۔