سینٹ کا سیاسی دنگل
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 04 / اگست / 2019
- 4610
سینٹ کے چیرمین کی تبدیلی میں ناکامی نے حزب اختلاف کی سیاست میں پہلے سے موجود سیاسی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔عملی طور پر حزب اختلاف کی سیاست سیاسی ٹریپ کا شکار ہوئی ہے اور وہ اپنی اپنی جماعتوں کے داخلی بحران، ارکان کے تحفظات اور تضادات پر مبنی سیاست کے رموز کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔
اگرچہ حزب اختلاف کو عددی برتری تھی لیکن خفیہ رائے شمار ی میں جو کچھ ہوا وہ غیر متوقع نہیں تھا۔کیونکہ یہ بات طے تھی کہ بہت سے سینٹرز خفیہ رائے شمار ی میں حزب اختلاف کی سیاست کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ بہت سے حزب اختلاف کے ارکان نے چیرمین سینٹ کی تبدیلی سمیت حاصل بزنجو کی تقرری پر بھی اپنے تحفظات پیش کیے تھے۔ مگر سیاسی قیادت نے ان مسائل پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے جذباتیت کی بنیاد پر اپنی مہم چلائی اور جو نتیجہ نکلا وہ حزب اختلاف کے لیے حیران کن اور غیر متوقع تھا۔ حزب اختلاف کا یقین تھا کہ اس کامیابی کے بعد وہ حکومت کو دباؤ میں لاکر ایک بڑی مزاحمتی سیاست کو نئی طاقت دے سکے گی،عملی طور پر ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔
بہت سے سیاسی پنڈتوں، اہل دانش او راہل سیاست کے بقول حزب اختلاف کی تعداد میں واضح برتری کے باوجود شکست سے ملک میں سیاست، جمہوریت اور اخلاقی سیاسی قدروں کی شکست ہوئی ہے۔ ان کے بقول حزب اختلاف کی عددی برتری کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی حکومتی حکمت عملی نے جمہوری ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں کب سیاست اور جمہوریت کسی اخلاقی قدر، نظریاتی او راصولوں کی بنیاد پر ہورہی تھی۔ یہ سیاسی ماتم کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ہماری سیاسی تاریخ اسی طرح کے سیاسی ماتم سے بھری ہوئی ہے۔عملی طور پر ہماری سیاست کا بنیادی مقصد طاقت کا کھیل ہے۔ سیاست میں طاقت کا حصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے،لیکن اگر یہ طاقت کسی اصول، نظریات اور اخلاقی معیارات کے بغیر ہوگی تو اس سے اچھائی کے پہلو کی امید رکھنا درست نہیں ہوگا۔
چیرمین سینٹ کی تبدیلی کا معاملہ خالصتاً طاقت کے مراکز کے درمیان جاری سیاسی چپقلش کا نتیجہ تھا۔ حالانکہ بطور چیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے بہت بہتر انداز میں ایوان کو چلایا او ران کے بہت سے معاملات پر خود حکومتی لوگوں کو تحفظات تھے۔لیکن حکومت او ر حزب اختلاف کے درمیان جاری سیاسی رسہ کشی یا سیاسی تقسیم میں حزب اختلاف نے اپنی سیاسی طاقت دکھانے او رحکومت کو دفاعی پوزیشن پر لانے کے لیے چیرمین سینٹ کو قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا۔کیونکہ حزب اختلاف کے پاس فی الحال سینٹ ہی ایک ایسا فورم تھا جہاں وہ اپنی عددی برتری کی مدد سے کچھ تبدیل کرسکتی تھی، لیکن یہ جادو چل نہیں سکا اور حکومت کے پاس موجود ’سیاسی وظیفہ‘ یا طاقت کے کھیل میں حزب اختلاف کو حکومت کے مقابلے میں سیاسی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
حزب اختلاف نے اپنی ناکامی کو دولت کی چمک اور ارکان کی خرید و فروخت سے تشبیہ دی ہے۔ ممکن ہے کہ ان کا تجزیہ درست ہو او ریہ عمل ماضی کی سیاست میں بھی عروج پر رہا ہے۔ تحریک انصاف نے تو ماضی میں کئی ارکان کو سینٹ کے انتخابات میں پیسے لے کر مخالف کو ووٹ دینے پر پارٹی کی بنیادی رکنیت سمیت پارٹی سے ہی نکال دیا تھا۔ اب اگر ایسا ہوا ہے تو یہ حزب اختلاف کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ارکان کو بے نقاب کریں اور ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں جو سلوک تحریک انصاف نے کیا تھا۔ بلاول بھٹو نے کھل کر خفیہ رائے شمار ی پر اپنے تحفظات پیش کیے ہیں۔لیکن ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ سب قانون کے اندر ہے او راگر واقعی ان کو اس قانون پر بڑا اعتراض ہے تو ان کو مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر ماضی کی حکومتوں میں اسے تبدیل کرنا چاہیے تھا۔مسئلہ کسی بھی ارکان کے ضمیر کا نہیں بلکہ ا ارکان کے سیاسی او رذاتی مفادات کا ہوتا ہے او راسی کے گرد ہماری سیاست چلتی ہے۔
چیرمین سینٹ کے طور پر حاصل بزنجو کی تقرری پر بھی حزب اختلاف کی سیاست میں گروپ بندی تھی۔نواز شریف کی جانب سے حاصل بزنجو کی تقرری پر عدم مشاورت پر بھی ارکان کے تحفظات سامنے آئے تھے۔جے یو آئی، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کچھ ارکان نے حاصل بزنجو کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی آواز اٹھائی تھی۔ بنیادی طور پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کی نئی نسل کی قیادت مریم نواز اور بلاول بھٹو کاچیرمین سینٹ کی تبدیلی کا عمل پہلا سیاسی امتحان تھا۔یقینی طور پر اس امتحان میں کامیابی سے دونوں نوجوان راہنماؤں کا سیاسی قد کاٹھ بڑھتا، مگر یہ دونوں حزب اختلاف میں موجود مسائل او رحکومتی حکمت عملی اور اس کے سیاسی کارڈز کو سمجھنے میں ناکام ہوئے او ربلاوجہ غلط حکمت عملی سے ایک بڑی ناکامی کو اپنے ماتھے پر سجالیا۔
طاقت کی اس لڑائی میں حکومت او ران کی اتحادی جماعتوں نے اپنے کارڈ درست کھیلے اورجذباتی حکمت عملی کی بجائے حزب اختلاف میں موجود مسائل کو بنیاد بنا کر ان میں خاموشی سے سیاسی تقسیم پیدا کی۔آخری لمحات تک لوگ حزب اختلاف کی کامیابی کو یقینی سمجھ رہے تھے مگر وہ حکومتی کارڈز کے کھیل کو درست طو رپر سمجھ نہیں سکے او رخاموش حزب اختلاف کے ارکان نے حکومت کے ساتھ مل کر اپنا کام دکھا کر اپنی ہی جماعتوں کو پسپائی پر مجبور کردیا۔پرویز خٹک، جہانگیر ترین، شبلی فراز اور وزیر اعلی جام کمال سمیت خود چیرمین سینٹ نے پس پردہ معاملات کو اس انداز سے حل کیا کہ کامیابی ان کا مقدر بنی۔ چیرمین سینٹ کی تبدیلی کے معاملہ پر حزب اختلاف اپنی اس ناکامی کو کوئی بھی نام دے مگر ان کو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ حکومتی حکمت عملی کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کرسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب شکست کے بعد یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ ارکان کو خریدا گیا ہے، جبکہ دو دن قبل تک حاصل بزنجو نے خود تسلیم کیا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پیسے کا کھیل ہورہا ہے او ریہ سیاسی بیان بازی کے کچھ نہیں ہے۔
حزب اختلاف بنیادی طو رپر اس معرکہ کی کامیابی کو بنیاد بنا کر ایک بڑے سیاسی معرکہ یا حکومت مخالف تحریک میں جان پیدا کرکے حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لانا چاہتی تھی۔مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ایوان کی سیاست میں اس کی شکست نے ان کو داخلی سیاست میں کمزو رکردیا ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کی گونج میں بھی حزب اختلاف کی سیاست پر خاموشی طاری تھی او راب چیرمین سینٹ کو تبدیل کرنے کی مہم جوئی میں ناکامی نے ان کو اور پیچھے دھکیل دیا ہے۔ 25جولائی کو ہونے والے ملک گیر احتجاج میں بھی سوائے جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن کے کوئی بڑے جلسے نہیں کرسکے۔پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن اجتجاجی سیاست میں اپنا جادو دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ اس لیے اب حالیہ سیاسی معرکہ میں ناکامی کے بعد اگر کوئی سمجھتا ہے کہ حزب اختلاف مشترکہ طور پر کوئی بڑی تحریک حکومت مخالف چلاسکے گی تو ایسا فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ حکومت کو گرانے کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کی حکمت عملی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی حکمت عملی سے بہت مختلف ہے او ر مزید تقسیم ہوسکتی ہے۔
یقینی طور پر حزب اختلاف کی سیاست آسانی سے اس شکست کے سیاسی صدمے سے باہر نہیں نکل سکے گی۔کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ اگر سینٹ کے معاملے پر ہمیں شکست ہوسکتی ہے تو دیگر محاذ پر جہاں ہمیں کوئی بڑی سیاسی برتری بھی نہیں وہاں کیسے کامیاب ہوسکیں گے یا کیسے اپنے ہی ووٹروں یا کارکنوں میں اپنی ساکھ کو قائم کرسکیں گے۔کیونکہ اب اگر حزب اختلاف کا دعوی ہے کہ وہ ستمبر یا اکتوبر میں اسلام آباد میں ایک بڑا سیاسی دھرنا حکومت مخالف دینا چاہتے ہیں تو اس کی بھی ساکھ کا سوال اہم ہوگا۔حزب اختلاف نے فوری طور پر اے پی سی طلب کرلی ہے مگر آثار بتاتے ہیں کہ ان کے پاس فوری طو رپر کوئی ایسی جادو کی چھڑی نہیں کہ وہ کوئی بڑا معرکہ کرسکیں۔
حکومت کو بڑا خطرہ حزب اختلاف کی سیاست یا ان کی احتجاجی سیاست یا دھرنے سے نہیں بلکہ معاشی میدان میں موجود سنگین نوعیت کے اہم مسائل سے ہے۔ جس انداز سے معاشی میدان میں چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مختلف قیمتوں میں اضافہ ہی اس حکومت کو سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اگر حکومت ان معاشی معاملات کی بہتری میں فوری طور پر کچھ نہ کرسکی تو یقینی طور پر حکومت کا بحران بڑھے گا اور یہ بحران خود اس کا پیدا کردہ ہوگا۔