مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب

  • سوموار 05 / اگست / 2019
  • 4830

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منگل 6 اگست کو صبح 11 بجے طلب کرلیا ہے۔ اس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال اور بھارت کی جانب سے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ذریعے مقبوضہ کمشیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد کی صورتحال پر بحث کی جائے گی۔

پیر کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا تھا اور بھارتی صدر رام ناتھ کووِند نے اس بل پر دستخط کردیے تھے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیا سبھا میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صدر نے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔

بھارت کی جانب سے اس خصوصی آرٹیکل کو ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔

آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کے علاوہ کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔