بھارت نے صدارتی فرمان کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی

  • سوموار 05 / اگست / 2019
  • 4810

بھارتی صدر رام ناتھ کووِند نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے حکم پر دستخط کر دیے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر راجیا سبھا  کے اجلاس میں بحث ہوئی۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیا سبھا میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صدر نے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔

خیال رہے کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔

اپوزیشن کی جانب سے امیت شاہ کے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا گیا۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق راجیا سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی نے آج آئین کا قتل کردیا، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔'

علاوہ ازیں کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے اراکین اسمبلی نذیر احمد لاوے اور میر فیاض نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل پیش کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا۔ دونوں کو آئین کی کاپی پھاڑنے کی کوشش پر ایوان سے باہر نکال دیا گیا جبکہ میر فیاض نے احتجاجاً اپنی قمیص پھاڑ لی۔

بھارتی پارلیمنٹ میں ایک جانب حکومت کے اس اعلان کے حوالے سے بحث ہورہی تھی تو دوسری طرف بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت، مقبوضہ کشمیر میں مزید 8 ہزار فوجی بھیج رہی ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں کو فضائی راستے سے مقبوضہ کشمیر بھیجا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت گزشتہ ہفتے 35 ہزار اضافی فوجی مقبوضہ وادی بھیج چکی ہے۔

بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے اعلان کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ 'آج کا دن بھارت کی جمہوریت کا سیاہ ترین دن ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جموں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے 1947 میں دو قومی نظریے کو رد کرنا اور بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آج غلط ثابت ہوا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے بھارت، جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا'۔

ایک اور ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارتی حکومت کے ارادے واضح ہیں، وہ جموں و کشمیر کے علاقے کو یہاں کی عوام کو خوفزدہ کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ بھارت، کشمیر کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو چکا ہے'۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کشمیر عمر عبداللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ یک طرفہ فیصلہ کشمیری عوام کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے دور رس سنگین نتائج مرتب ہوں گے جو ریاست کے عوام کے خلاف جارحیت ہے جس کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں نے خبردار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خاموشی سے اس تباہ کن فیصلے کے لیے فضا ہموار کی۔ بدقسمتی سے ہمارا سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہوگیا جبکہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے نمائندے ہم سے جھوٹ بولتے رہے کہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں لیا جارہا۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب کشمیر کو ایک گیریژن میں تبدیل کردیا گیا اور کشمیری عوام کو جمہوری آواز دینے والے ہم جیسے لوگ قید میں ہیں اور ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ یک طرفہ، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، جسے ان کی جماعت چیلنج کرے گی۔ ایک طویل اور مشکل لڑائی لڑنی ہے، جس کے لیے ہم تیار ہیں۔

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ریاست یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے۔ تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 35 'اے' اسی آرٹیکل کا حصہ ہے جو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق اور استحقاق کی تعریف کے اختیارات دیتا ہے۔

1954 کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 'اے' آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا ہے۔

قبل ازیں بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں کرفیو کے طرز پر نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے دو سابق  وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند کردیا گیا تھا۔  عمر عبداللہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں نظر بند کردیا گیا ہے اور اسی طرح کا طرز عمل دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی جاری ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ مجھے رات کے دوسرے پہر سے گھر پر نظر بند کردیا گیا ہے‘۔

عمر عبداللہ کے ٹوئٹ کے چند لمحات کے بعد ہی جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'اطلاعات ہیں کہ انٹرنیٹ سروس سمیت موبائل سروس کو معطل کیا جارہا ہے کرفیو کے احکامات بھی جاری ہورہے ہیں'۔ انہوں نے کہا کہ ’خدا جانتا ہے کہ اگلا دن کیسا ہوگا، یہ ایک طویل رات ثابت ہورہی ہے‘۔

محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ 'کتنی عجیب بات ہے کہ ہم جیسے منتخب نمائندے، جو امن کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں، گھر پر نظر بند کردیے گے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں لوگوں کی آواز بند کی جارہی ہے'۔