کشمیر کی آزادی کا سورج!

دنیا اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستان جیسی ریاست اور پاکستانیوں جیسی قوم ساری دنیا میں نہیں مل سکتی۔ سال ہا سال سے دکھ، تکالیف اور مسائل کی چکی میں پستے رہنے کے باوجود اس قوم نے کبھی ہار نہیں مانی اور نہ ہی اب تک گھٹنے ٹیکے ہیں۔

یہ حالات سے  لڑنے کیلئے روز اول کی طرح پر عزم دیکھائی دے رہی ہے اور موجودہ حکومت کے ساتھ مل کر معاشی بدحالی کی جنگ میں برسر پیکار ہے۔ حکمرانوں نے چھوٹے چھوٹے مسائل میں سال ہا سال سے الجھائے رکھا ہے۔ پینے کو پانی نہیں ملتا مگر ٹینکر مافیا خوب پروان چڑھ رہا ہے۔  سڑکیں ٹوٹی ہیں، سفر کی سہولیات بد ترین ہیں، صحت کی کسی کو کوئی فکرکبھی رہی ہی نہیں۔ نکاسی آب کی بدتر صورتحال شہر کہ شہر گندے پانی کے جہڑ بنے ہوئے ہیں، گٹر ڈھکنوں کے بغیر معصوم بچوں کی قیمتی جانیں نگل رہے ہیں۔مطلب زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہ ہونے کے باوجود ہم  اپنے ملک کی خاطر ہ رقربانی  کے لئے تیار رہتے ہیں۔

 خود کش حملے ہمیں مسجدوں سے دور نہیں کرپاتے، مندروں کلیساؤں کی رونقیں بھی ماند نہیں ہونے دیتے۔ پاکستان دشمن عناصر کہیں یا اسلام دشمن عناصر، دونوں ہی پاکستان کی سا  لمیت اور استحکام کے درپے ہیں۔ان سارے دشمنوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ کسی بھی طرح سے پاکستان کو اتنا غیر مستحکم کردیں کہ اس کا  وجود ہونا نا ہونا ایک برابر ہوجائے۔ یہ داخلی اور خارجی پر طرح کی سازشوں کا جال بن کر دیکھ چکے ہیں،یہ ہر چھوٹا بڑا حربہ آزما کر دیکھ چکے ہیں لیکن پاکستان  ہر روز نئے عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ جاگتا ہے اور دشمن اپنی سا منہ لے کر رہ جاتا ہے۔

اتنے مسائل اور مصائب کے باوجود پاکستان کی آسودگی دیکھ کر، بھارت اپنی کھسیانی کیفیت سرحدوں پر اندھا دھند گولا باری کرکے ظاہر کرتا ہے جہاں سرحدوں کے ساتھ رہنے والے معصوم لوگ اس گولہ باری کا نشانہ بنتے ہیں اور ہنستے مسکراتے شہادت کے رتبے پر فائز ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی جگہ اپنی زمین اپنی مٹی سے محبت چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ بھارت جانتا ہے کہ یہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے پاکستانی ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح نے مستقبل کی کشیدگی کے پیش نظر یہ الفاظ ہمارے لئے چھوڑے ہیں کہ:مسلمان مشکل حالات میں گھبرایا نہیں کرتا:اور ہم ہیں کہ گھبرانے کیلئے تیار نہیں۔

 سب کو معلوم ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو پھر وہ پھیلتی ہی جاتی ہے۔ اس طرح  کشمیر جل رہا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے کشمیر کا رؤاں رؤاں جل رہا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک اس آگ کو پھیلنے نہیں دیا ہے۔لیکن دنیا کو سمجھ لینا چاہئے کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جو دنیا کو ایک ایسی آگ میں دھکیلنے پر تلا ہوا ہے۔ جس میں جل کر وہ خود بھی تہس نہس ہوجائے گا۔ پاکستان اور پاکستانی شہادت کے جذبے سے سرشار ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ پاکستان کی افواج روزانہ کی بنیاد پر کر رہی ہیں۔ یہ خاکی وردی والے خاک میں ملادینے کی بھرپور صلاحیت  رکھتے ہیں اور بارہا اس کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں۔ یہ جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں اور حسب ضرورت اپنی سرحدوں کی حفاظت پر قربان کردیتے ہیں۔ جس دھرتی کے رکھوالے موت کے ایسے متوالے ہوں پھر بھلا اس دھرتی پر رہنے والوں کو خدا کے سوا کسی کا خوف، خوفزدہ نہیں کرسکتا۔

بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اب دھونس دھمکی کا دور گزر چکا ہے، زمانہ جاہلیت کی تمام روایات یوں تو چودہ سو سال پہلے مٹا دی گئی تھیں لیکن بھارت آج تک اس جاہلیت کے اندھے اور گندے گڑھے میں پڑا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی  ذہنیت بھی گل سڑ چکی ہے۔  اس گلی سڑی ذہنیت کی بدبو آج ساری دنیا میں پھیل چکی ہے۔جدوجہد کشمیر بغیر میڈیا کے بھی جاری تھی، جب کسی کو علم نہیں تھا کہ وادی میں کیا کچھ ہو رہا ہے وہ جب بھی اسی جوش و جذبے سے جاری و ساری تھی۔ اور آج جب دنیا ظلم اور بربریت کی منہ بولتی تصویریں دیکھ رہی ہے پھر بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت کی کشمیر میں جارحیت اورریاستی دہشت گردی  بڑھنے کی وجہ پاک امریکہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز تو نہیں ہے؟ ہم اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ایک طرف امریکہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کا عالمی ڈرامہ رچا رہا ہو اور دوسری طرف بھارت سے پاکستان کو تنگ کرنے کا کہہ رہا ہو۔  امریکہ پاکستان سے اس وقت تک تعلقات کی بہتری کا ڈرامہ رچاتا رہے گا جب تک کہ اسے افغانستان سے مزید نقصان کئے بغیر واپسی کا راستہ نہیں مل جائے گا یہ بات بھارت کو یقینا ناگوار گزر رہی ہے اور وہ اپنی ناگواری کا اظہار نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھا کر کر رہا ہے۔

 غرض یہ کہ کشمیریوں کا خون اس لئے بھی بہایا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک بااعتماد قیادت کے حوالے ہوچکا ہے جو حالات وتنازعات کو بہترین عالمی تقاضوں کے مطابق حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جو اپنے ملک کی سا  لمیت کی خاطر کسی بھی قسم کا حتمی قدم اٹھانے کی بھی بھرپور اہلیت رکھتی ہے۔ دنیا کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اب بھی بھارت پر کشمیر کے معاملے پر دباؤ نہیں ڈالا گیا تو بہت جلد کشمیر میں لگی آگ ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔

کشمیر  پر دنیا کو اپنی بے حسی کو ختم کرنا پڑے گی۔  کشمیر اپنی آزادی سے بس کچھ فاصلے پر ہے۔