مقبوضہ کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہنگامہ، اجلاس شروع نہ ہوسکا

  • منگل 06 / اگست / 2019
  • 4970

بھارتی حکومت کی جانب سے آئین میں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔ اسپیکر نے اسے 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

پارلیمان کا مشترکہ صدر مملکت عارف علوی نے طلب کیا تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہوئے جنہوں نے بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔

اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے قرار داد پیش کی جس میں بھارتی فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو بلا اشتعال فائرنگ اور شیلنگ سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کا ذکرکیا گیا تھا۔ تاہم قرار داد میں بھارت کی جانب سے ختم کی گئی مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ قرارداد میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ذکر ہی نہیں اس کو شامل ہونا چاہیے۔  مطالبے کی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی تائید کی۔ جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر کی ہدایت پر اعظم سواتی نے ترمیم شدہ قرارداد ایوان میں پڑھتے ہوئے اس میں آرٹیکل 370 کا ذکر شامل کیا۔

تاہم اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کسی بھی حکومتی رکن کو بات کرنے نہیں دی۔ اسپیکر نے 20 منٹ کے لیے ایوان کا مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی منعقد ہوا تھا تاہم قرآن کی تلاوت اور قومی ترانہ کے بعد فوری طور پر یہ کہہ کر ملتوی کردیا گیا تھا کہ ‘حالیہ واقعات کی روشنی میں اسمبلی کا معمول کے مطابق اجلاس نامناسب ہے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وہ پہلے اپوزیشن رہنما تھے جنہوں نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

وقفے کے دوران وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے دن ہمیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان بین الاقوامی سطح پر رابطے کررہے ہیں اور مختلف ممالک کے سربراہان سے بات چیت کررہے ہیں تا کہ متعلقہ عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ بہتر طریقے سے پیش کیا جائے جس کے بارے میں وہ آج پارلیمان کو اعتماد میں لیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اعظم سواتی کی پیش کردہ قرارداد میں بھارت کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اگر اپوزیشن کی خواہش ہے کہ قرارداد میں کشمیر کی حثیت کا ذکر کیا جائے تو حکومت اس میں دفعہ 370 کی منسوخی کے معاملے کو شامل کرنے کی خواہش کا احترام کرے گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 'کشمیر کی حرمت کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ قربانی دینے کے لیے تیار ہے لیکن ہمارا پالا نااہل حکومت سے پڑا ہے جو اس اہم موقع پر لوگوں کو متحد رکھنے میں ناکام رہی۔'

انہوں نے کہا کہ 'بھارت نے یک طرفہ طور پر وہ قدم اٹھایا جس کی اسے 72 سال میں جرات نہ ہو سکی۔ مودی سرکار نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے فیصلے کو ردی میں پھینکنے کی کوشش کی، بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی۔ بھارت کے اتنے بڑے اقدام کا ذکر قرارداد میں نہ ہونے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔'